مریم نواز کا پنجاب کوٹ ادو میں غیر محفوظ، اقراری بولا گینگ پولیس، سی سی ڈی کیلئے چیلنج-مریم نواز کا پنجاب کوٹ ادو میں غیر محفوظ، اقراری بولا گینگ پولیس، سی سی ڈی کیلئے چیلنج-یونیورسٹی آف مالاکنڈ میں اقر باپروری، طے شدہ لسٹوں پر بھرتیاں، اہل امیدوار نظر انداز-یونیورسٹی آف مالاکنڈ میں اقر باپروری، طے شدہ لسٹوں پر بھرتیاں، اہل امیدوار نظر انداز-یو ای ٹی آڈٹ میں ڈاکٹر کامران پر 18 کروڑ ریکوری عائد، 52 لاکھ غیر قانونی تنخواہ وصول-یو ای ٹی آڈٹ میں ڈاکٹر کامران پر 18 کروڑ ریکوری عائد، 52 لاکھ غیر قانونی تنخواہ وصول-صادق ویمن یونیورسٹی میں کانفرنس فیس کے نام پر کھلی لوٹ مار،رقوم نجی اکاؤنٹس میں منتقل-صادق ویمن یونیورسٹی میں کانفرنس فیس کے نام پر کھلی لوٹ مار،رقوم نجی اکاؤنٹس میں منتقل-پنجاب : ہزاروں ایڈہاک ڈاکٹروں کی برطرفی، ریٹائرڈ افسر کو لاکھوں روپے تنخواہ-پنجاب : ہزاروں ایڈہاک ڈاکٹروں کی برطرفی، ریٹائرڈ افسر کو لاکھوں روپے تنخواہ

تازہ ترین

صادق ویمن یونیورسٹی میں کانفرنس فیس کے نام پر کھلی لوٹ مار،رقوم نجی اکاؤنٹس میں منتقل

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں بھی مبینہ طور پر فوکل پرسن گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر عظمیٰ مقبول کی سربراہی میں نجی اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم وصول کرنے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق’’انٹرنیشنل ملٹی ڈسپلنری کانفرنس آن ایس ڈی جیز، ریسرچ پالیسی اینڈ انڈکشن‘‘کے نام پر طلبہ، اساتذہ اور شرکاء سے مختلف مدات میں فیس وصول کی جا رہی ہے لیکن حیران کن طور پر یہ رقوم سرکاری خزانے یا یونیورسٹی کے آفیشل اکاؤنٹس کے بجائے نجی بینک اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں جمع کروانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ دستیاب شواہد کے مطابق بوتھ فیس 5000 روپے، ایگزیبیشن پورٹ 10 ہزار روپے، پویلین 15 ہزار روپے، پیپر پریزنٹیشن 4000 روپے، انڈرگریجوایٹ فیس 1000 روپے، پوسٹ گریجوایٹ 2500 روپے اور پروفیشنل فیس بھی 2500 روپے مقرر کی گئی ہےمگر ان سب کی ادائیگی مبینہ طور پر مریم عباس سہروردی کے ایزی پیسہ اور سارہ نورین کے بینک اکاؤنٹ میں مانگی جاتی رہیں۔ مزید حیرت اس بات پر ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر عظمیٰ مقبول کو فوکل پرسن مقرر کیا گیاجبکہ کانفرنس کے تشہیری بروشر میں تین مختلف وائس چانسلرز کی تصاویر اور نام بھی نمایاں کیے گئے جن میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے سربراہان شامل ہیں۔ اس کے باوجود رقوم کی وصولی کا طریقہ کار مکمل طور پر غیر شفاف دکھائی دیتا ہے۔ قانونی و انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں اس نوعیت کی فیس صرف سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے وصول کی جا سکتی ہے۔ نجی اکاؤنٹس کا استعمال نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری جیسے سنگین الزامات کو بھی جنم دیتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی اسی نوعیت کے معاملات میں’’ٹیکس بچانے‘‘کے نام پر نجی اکاؤنٹس کے استعمال کا جواز پیش کیا جاتا رہا ہے جو کہ ماہرین کے نزدیک کھلی خلاف ورزی اور قابلِ سزا جرم ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے اس طرح کی سرگرمیوں کی سزا ملازمت سے برطرفی تک ہو سکتی ہے۔ اہم سوالات بدستور تشنہ جواب ہیں: کیا سرکاری یونیورسٹی کے ملازمین کو ذاتی اکاؤنٹس میں رقوم وصول کرنے کی اجازت ہے؟ ان رقوم کا آڈٹ کون کرے گا اور کہاں ظاہر کیا جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یونیورسٹی کو حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز ناکافی ہیں یا انہیں ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ اس بارے میں گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی پی آر او کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں