ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں انتظامی فیصلوں پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں بدعنوانی کے الزامات کی زد میں رہنے والے اسسٹنٹ ٹریژرر منصور احمد خان کو گریڈ 18 کے دو نہایت اہم اور حساس عہدوں پر تعینات کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام پیش رفت عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کے دورِ انتظام میں ہو رہی ہے جس پر تعلیمی اور انتظامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منصور احمد خان جن پر ماضی میں متعدد انتظامی، اخلاقی اور مالی نوعیت کے الزامات زیرِ غور رہے ہیں کو پہلے ہی مختلف اضافی چارجز دیے جا چکے ہیںجس سے ان کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہیں اضافی بنیادوں پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن کے عہدے پر بھی تعینات کیا گیا تھا تاہم بعد میں ان کا یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا تاکہ آئندہ سلیکشن بورڈ میں ان کی مستقل تعیناتی یا اسکیل پر کسی قسم کا سوال نہ اٹھ سکے۔اب انہیں باقاعدہ طور پر گریڈ 18 کے دو کلیدی عہدوں، ڈپٹی ٹریژرر (BPS-18) اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن، پر تعینات کرنے کے لیے اشتہارات جاری کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ یہ دونوں عہدے مالی اور انتظامی معاملات کے حوالے سے نہایت حساس اور بااثر سمجھے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں اور ناقدین کے مطابق ایسے افسر کو ترقی یا مستقل اسکیل دینے کی کوشش، جس پر سنگین نوعیت کے الزامات زیرِ بحث آ چکے ہوں، میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کے اصولوں کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فیصلے نہ صرف ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں انتظامی بے چینی اور قانونی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ مزید بتایا جاتا ہے کہ ماضی میں بھی منصور احمد خان کو متعدد اضافی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جس پر مختلف فورمز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم ان اعتراضات کو نظر انداز کیا گیا۔ تعلیمی و انتظامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل تعیناتی یا ترقی سے قبل الزامات کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ اسی دور میں دیگر کنٹریکٹ افسران کو بھی غیر معمولی ترقی دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حافظ عبداللہ جو اس وقت بطور ایکسین (XEN) خدمات انجام دے رہے ہیں، کو براہِ راست پروجیکٹ ڈائریکٹر (BPS-19) کے عہدے پر تعینات کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسی طرح اختر علی گھمن جو لینڈ آفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں کو سینئر ہارٹیکلچر آفیسر کے عہدے پر فائز کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ اس بارے میں وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم کا موقف رہا کہ کہ یہ تمام غیر قانونی کام چونکہ میرے دور کے نہیں ہیں اس لیے میں اس پر ایکشن نہیں لے سکتی۔ اس صورتحال پر یونیورسٹی کے ذمہ دار حلقوں نے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حساس معاملے کا فوری نوٹس لیں، عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کے دور میں ہونے والی اس پیش رفت کا جائزہ لیں، تقرری کے عمل کو عارضی طور پر روکا جائے اور شفاف انکوائری کے ذریعے حقائق کو سامنے لایا جائے، تاکہ ادارے کا وقار، میرٹ اور قانون کی بالادستی ہر صورت برقرار رکھی جا سکے۔ اس بارے میں گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی ملتان کی پی آر او کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ واضح کرتی ہے کہ قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم ایک دیانتدار، شفاف اور میرٹ پر یقین رکھنے والی خاتون ہیں، اور ان کے دورِ انتظام میں کسی بھی افسر کی ذاتی مفاد یا طرف داری کی غرض سے گریڈ 18 پر تقرری، ترقی یا مستقل تعیناتی کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ زیرِ گردش خبروں میں پیش کیے گئے تاثر حقائق کے منافی ہیں۔ یونیورسٹی میں تمام انتظامی معاملات قواعد و ضوابط، شفافیت اور میرٹ کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں، جبکہ کسی بھی افسر کے خلاف الزامات کی موجودگی میں مکمل جانچ پڑتال کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔ انتظامیہ ادارے کے وقار، گڈ گورننس اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کے عارضی دور رجسٹرار میں ہی اسسٹنٹ خزانچی منصور احمد خان کی پرسنل فائل سے تمام شکایات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے ڈی نو وو انکوئری آرڈرز نکال کر فائل کلئیر کر دی گئی ہے۔







