صادق ویمن یونیورسٹی سینڈیکیٹ: ایڈیشنل سیکرٹری ایچ ای ڈی کی غیرقانونی صدارت، قانون کی دھجیاں

ملتان(سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں سینڈیکیٹ کے اجلاس کے انعقاد نے اعلیٰ تعلیمی نظام کی قانونی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حالیہ سینڈیکیٹ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب زاہدہ اظہر نے کی حالانکہ وہ نہ تو اس سینڈیکیٹ کی رکن ہیں اور نہ ہی قانون کے تحت وہ اس اجلاس کی صدارت کی مجاز تھیں۔ یونیورسٹی ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے مطابق سینڈیکیٹ کے بنیادی ممبران میں صوبائی وزیرِ تعلیم (بطور پرو چانسلر) اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ شامل ہوتے ہیں۔ قانون واضح ہے کہ سینڈیکیٹ کی صدارت صوبائی وزیرِ تعلیم بطور پرو چانسلر کریں گے اور ان کی غیر موجودگی میں وہ اپنی صدارتی پاور کسی بھی سینڈیکیٹ ممبر کو منتقل کر سکتے ہیں۔ صوبائی وزیرِ تعلیم نے اپنی صدارتی پاور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو دی جو کہ قانون کے عین مطابق اقدام تھا۔ مگر اصل سنگین انحراف اس وقت سامنے آیا جب سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی غیر موجودگی میں یہی پاور ایڈیشنل سیکرٹری کو منتقل کر دی گئی جبکہ قانون ایسی کسی مزید منتقلی (Sub-Delegation) کی اجازت نہیں دیتا۔ قانونی ماہرین اس اقدام کو کھلی غیر قانونی سب ڈیلیگیشن قرار دے رہے ہیں۔ انتظامی اور آئینی قانون کا معروف اصولDelegatus non potest delegareواضح کرتا ہے کہ جس اتھارٹی کو اختیار تفویض کیا جائے وہ اسے مزید کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتی، الا یہ کہ قانون میں اس کی صریح اجازت موجود ہو۔ اس اصول کا مقصد یہی ہے کہ اختیار کے استعمال میں جوابدہی برقرار رہے اور فیصلہ سازی وہی اتھارٹی کرے جس پر اعتماد کیا گیا ہو۔ ماہرین کے مطابق سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اپنی غیر موجودگی میں کسی ایڈیشنل سیکرٹری کو اپنی انتظامی ذمہ داریاں یا بطور ممبر نمائندگی تو دے سکتے ہیںمگر صوبائی وزیرِ تعلیم کی جانب سے تفویض کردہ صدارتی پاور کو آگے منتقل کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ اس طرح کی سب ڈیلیگیشن نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ سینڈیکیٹ کے تمام فیصلوں کی قانونی حیثیت کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر سنڈیکیٹ کی صدارت ہی غیر قانونی ہو تو اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے، منظوریوں اور پالیسی اقدامات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ کیا یہ فیصلے عدالت میں چیلنج ہونے کی صورت میں برقرار رہ سکیں گے؟ ۔تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی اقدام کی فوری انکوائری کی جائے، ذمہ داران کا تعین ہو اور سنڈیکیٹ کے اس اجلاس کو کالعدم قرار دے کر تمام فیصلوں کا ازسرِنو قانونی طریقے سے جائزہ لیا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ معاملہ نہ صرف یونیورسٹی بلکہ پورے ہائر ایجوکیشن سسٹم کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق زاہدہ اظہر متعدد بار سینڈیکیٹ کی صدارت کر چکی ہیں۔ اس بارے میں خبر کے موقف کے لیے جب گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم کو کال کی گئی تو انہوں نے کال موصول نہ کی۔ اس بارے میں رجسٹرار گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی رجسٹرار کا موقف تھا کہ پاورز صوبائی وزیر کی جانب سے دی گئی ہیں۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر نے اس خبر پر کوئی موقف نہ دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں