صادق ویمن یونیورسٹی: اسسٹنٹ خزانچی کی اے سی آر ٹیمپرنگ، ہراسانی ثابت، رجسڑار کی کلین چٹ

ملتان( سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں انتظامی شفافیت ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے، اسسٹنٹ خزانچی منصور احمد خان کے خلاف سالانہ خفیہ رپورٹ (ACR) کارکردگی جانچ رپورٹ میں مبینہ ردوبدل، ہراسانی کے تناظر میں ثابت ہونے والے الزامات اور اس کے بعد جاری ہونے والے متنازعہ سرٹیفکیٹس نے ایک نیا انتظامی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ تصدیق شدہ ڈاکومنٹس کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ منصور احمد خان نے اپنی ACR میں غیر قانونی ردوبدل( Tempering)کیا۔ اس سنگین معاملے کی تحریری تصدیق ان کے رپورٹنگ آفیسر کے خط سے بھی ہوتی ہے جو ہراسانی کے الزامات کی انکوائری کے دوران ریکارڈ کا حصہ بنی۔ ابتدائی انکوائری میں الزامات ثابت ہونے کے بعد ملزم کی جانب سے نمائندگی جمع کروائی گئی جس پر سیکشن آفیسر ظہیر علی ،ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED)، حکومتِ پنجاب نے ڈی نووو انکوائری کا حکم دیا۔تاہم یہ انکوائری تاحال زیرِ التوا ہے۔ حیرت انگیز اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ڈی نووو انکوائری کے زیرِ التوا ہونے کے باوجود یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس نے ایک سرٹیفکیٹ جاری کر دیاجس میں لکھا گیا کہ منصور احمد خان اور دیگر کے خلاف کوئی منفی ریمارکس موجود نہیں۔ یہ اقدام نہ صرف ثابت شدہ حقائق بلکہ جاری عدالتی/محکمانہ عمل کے بھی صریحاً منافی ہےجس سے انتظامی بدنظمی اور ممکنہ ملی بھگت کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ اس معاملے میں فوری معطلی اور پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت باقاعدہ انکوائری ناگزیر ہو چکی ہے، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سے بروقت ایکشن کے لیے خصوصی التماس ہے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ڈی نووو انکوائری مکمل کیوں نہ ہو سکی؟ رجسٹرار آفس نے ایک زیرِ سماعت معاملے میں ’’نو ایڈورس ریمارکس‘‘ کا سرٹیفکیٹ کس قانونی جواز پر جاری کیا؟ مزید ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کی عدم تعمیل اور غیر مجاز/غلط سرٹیفکیٹ کے اجرا پر ذمہ دار افسران کی ذمہ داری متعین کی جائے اور ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اگر اس حساس کیس کو شفاف، بروقت اور قانون کے مطابق منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو یونیورسٹی کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے موقف لینے کی کوشش جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں