ملتان(کرائم سیل رپورٹ) پولیس، نعت خواں ٹولے اور چند ٹائوٹوں کی بروقت مداخلت سے 30 لاکھ روپے نقد کے عوض زلیخا صدیق نامی کاریگر عورت نے زبردستی آبروریزی کے ویمن پولیس سٹیشن ملتان میں اپنی ہی مدعیت میں جمعہ 8 نومبر کو درج کرائے جانے والے مقدمہ نمبر 57/24 میں مرکزی ملزم نعت خواں شہباز قمر اور اس کے ساتھیوں سے وکیل ملزم اور سہولت کاروں کی موجودگی میں ڈیل کرکے ڈھیل دے دی اور 24 گھنٹے ہی میںاپنی”عزت” کے عوض 30 لاکھ وصول کر لیا۔ اس وصول شدہ رقم کی نیلے رنگ کے شاپر بیگ میں مدعیہ کی گود میں موجودگی ثبوت کے طور پر بنائی گئی تصویر وائرل کرکے سارے رنگ میں کسی موقع پر موجود شخص نے بھنگ ڈال دی۔ اس حوالے سے مبینہ طور پر متضاد معلومات گردش میں ہیں اور بعض واقفان حال کے مطابق یہ عورت چند’’اوباش معززین‘‘کے لئے کام کرتی ہے اور وصول شدہ رقم حصہ بقدر جثہ بانٹ لی جاتی ہے۔ اسی گروپ نے ایک سازش کے تحت شہباز قمر کو ٹارگٹ کرکے ٹریپ کیا اور اس گھناؤنے کھیل میں شہباز قمر کا ایک’’کاروباری مخالف‘‘نعت خواں گروپ بھی مبینہ طور پر شامل تھا۔ ایک ذریعہ نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ یہ ملتان میں ایک نیا عظمیٰ شہزادی گروپ سامنے آیا ہے جس میں زلیخا صدیق نامی خاتون مبینہ طور پر بدنام زمانہ عظمیٰ شہزادی ہی کے طریقہ واردات کی پیروی کر رہی ہے۔ اس آبروریزی کے واقعہ کی بمطابق ایف آئی آرکی تفصیلات اس طرح سے ہیں۔بخدمت جناب ایس ایچ او صاحبہ تھانہ ویمن پولیس سٹیشن ملتان عنوان درخواست بمراد اندراج بمقدمہ۔ جناب عالی گزارش ہے کہ من سائلہASTSHUTICS کا کام کرتی ہے اور نشاط آرکیڈ نزد چونگی نمبر9 میں فلیٹ میں رہائش پذیر ہے۔ مورخہ 05-11-2024 کو فلیٹ کے مالکان مہر علی اور فرحان ملزمان نے من سائلہ کو کال کر کے بتایا کہ انہوںنے فلیٹ فروخت کر دیا ہے۔ آپ فلیٹ کو آج ابھی فوراً خالی کر دو جس پر من سائلہ نےالزا م علیہان کی منت سماجت کی کہ مجھے کچھ وقت دیں جس پر الزام علیہان متذکرہ نے من سائلہ کو نئے مالک الزام علیہ شہباز قمر سے مل کر ریکوسٹ کرنے کی ترغیب د ی جس پر من سائلہ راضی ہو گئی۔ الزام علیہ مہر علی نے اپنے ڈرائیور کے ہمراہ من سائلہ کو فلیٹ سے پک کروایا ۔ لبرٹی ہوم نزد بٹ کڑا ہی بائی پاس روڈ ایک گھر میں بلالیا جہاں پر الزام علیہان مہر علی فرحان، عمران خان، شہباز قمر، منور حسین اور مدثر خان پہلے سے موجود تھے

۔ مہرعلی فرحان اور عمران خان جملہ ملزمان نے من سائلہ کا تعارف الزام علیہان شہباز قمر سے بطور فلیٹ کے نئے مالک کے طور پر کروایا کچھ دیر کے بعد الزام علیہان مہر علی ،فرحان اور عمران خان نیت مجرمانہ سے سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت وہاں سے تھوڑی دیر بعد واپس آ کر ڈراپ کرانے کے بہانہ کر کے چلے گئے۔انکے جاتے ہی بقایا جملہ ملزمان شہبازقمر، منور حسین اور مدثر خان وغیرہ نے من سائلہ سے زبردستی چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کر دیا جس دوران من سائلہ نے الزام علیہان مہر علی اور فرحان کو کالزمیسجزکئے کہ مجھے یہاں سے لے کر جائو لیکن انہوںنے کوئی جواب نہ دیا جب من سائلہ نے شور مچانا شروع کیا تو الزام علیہ شہباز قمر طیش میں آ گیا اور بے دردی سے مارنا شروع کر دیا۔ شور مچانے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگا اور زبردستی گھسیٹ کر بلڈنگ کی Basement میں لے گیا اور زبردستی کپڑے اتار کر من سائلہ کی مرضی کے خلاف زنا حرام کیا ۔من سائلہ نے اس کے بعد دوبارہ ملزمان مہر علی اور فرحان کو کالز کی جس میں سے فرحان نے کال اٹھائی اور جواب نہ دیا جس پربقیہ ملزمان موجودہ من سائلہ کی بے بسی پر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ الزام علیہان مہر علی فرحان اور عمران خان ہمارے ساتھ ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تمہیں بچانے نہ آئے گا۔ اسی دوران جب ملزم شہباز قمر نے دوبارہ من سائلہ کو زیادتی کا نشانہ بنانا چاہا تو من سائلہ واش روم کے بہانے گئی اور واش روم کو اندر سے لاک کر لیا ۔ من سائلہ نے اپنی جان بچانے کی غرض سے موقع پر 15 پر کال کی جو کہ بات نہ ہو سکی تو من سائلہ نے اپنے فیملی دوست جو کہ پیشہ سے وکیل ہے کو کال کی محمد ارسلان خان ایڈووکیٹ نے اٹھائی جس کو من سائلہ نے روتے ہوئے مدد مانگی اور ان ظالم ملزمان سے بچانے کیلئے مدد طلب کی اور اس کو بذریعہ واٹس ایپ لوکیشن شیئر کر دی ۔ارسلان من سائلہ کو بچانے کی غرض سے سیداں والا بائی پاس پر کھڑی پولیس اور اپنےد وست اویس کے ہمراہ موقع پر پہنچا اور پولیس نےا ٓکر من سائلہ کو الزام علیہ کے چنگل سے بازیاب کروایا اور تھانہ BZ روانہ ہو گئے۔ اسی اثنا میں الزام علیہ مہر علی جو کہ من سائلہ کی کالز پر نہ آیا تھا اپنے ساتھیوں کو بچانے کی خاطر تھانہ پہنچ گیا اور اپنے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کی بابت منت سماجت کرنے لگا ۔جب من سائلہ نہ مانی تو دھمکیوں پر اتر آیا اور من سائلہ کو معاشرے میں بدنام کر دینے کی دھمکیاں دینے لگا ۔کچھ دیر کے بعد الزام علیہ عمران خان بھی تھانہ BZ پہنچ گیا اور الزام علیہان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر معاشرہ میں بدنام کر کے مزاچکھانے کی دھمکیاں دینے لگا۔ موجودہ پولیس کو بھی الزام علیہان نے اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ سب مل کر من سائلہ کو راضی نامہ کرنے پر زور دینے لگے۔ الزام علیہان نے زبردستی من سائلہ کے ہاتھ میں پیسے تھما دیئے اور موقع پر اسٹام فروش کو بلا کر تھانہ کی حدود میں پولیس افسران کے سامنے زبردستی انگوٹھا لگوا لیا ۔ من سائلہ اپنی عزت اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے چپ چاپ گھر چلی گئی لیکن اسی روز شام کو الزام علیہ عمران خان کی کالز آنے لگی اور الزام علیہ عمران خان نے معاشرے میں من سائلہ کو معاشرے میں بدنام کرنا شروع کر دیا۔ من سائلہ اس سب سے اور تھانہ BZ پولیس کے رویہ سے دل برداشتہ ہو کر مورخہ 6-11-2024 کو تھانہ ویمن پولیس سٹیشن پہنچی جنہوں نے اگلے دن آنے کا بول کر واپس بھیج دیا۔ من سائلہ اگلے روز وائلنس اگسینٹ ویمن بھی گئی اور ساتھ ہی ویمن پولیس اسٹیشن بھی حاضر آئی ہو بغرض تفتیش سرنڈر کرنے کو تیار ہوں ۔جناب سے گزارش ہے کہ جملہ ملزمان کے خلاف بمطابق قانون سخت کارروائی کرتے ہوئے من سائلہ کو انصاف اور جملہ ملزمان جن سے من سائلہ کو جانی نقصان و خطرہ ہے سے تحفظ فراہم کیاجائے جناب کی عین نوازش ہو گی۔ عرضے دستخط بحروف انگریزی و ثبت انگوٹھازولیخہ صدیق از تھانہ مستغیثہ ایک تحریری درخواست معہ میڈیکل نمبر 181/24 پیش کیا ۔مضمون درخواست و حالات واقعات سے سردست صورت جرم 376ت پ پائی جاتی ہے جس پر رپورٹ ابتدائی اطلاع ہذا بجرم مذکورہ مرتب کر کے نقل مثل پولیس معہ اصل تحریر بمراد تفتیش بدست بلقیس نذر LC/726 عقب ارم حنیف LSI/SHO ارسال ہے۔بشریٰ صفدرلیڈی ہیڈکانسٹیبل







