شمالی کوریا میں پھر کم جونگ اُن کا راج، 99.93٪ ووٹ سے بھاری کامیابی

شمالی کوریا میں انتخابی مرحلہ اختتام پذیر ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں حکمران جماعت نے ایک بار پھر واضح برتری حاصل کر لی ہے اور تقریباً تمام نشستیں اپنے نام کر لی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برسرِ اقتدار جماعت اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمان کی قریباً تمام نشستوں پر کامیابی سمیٹی، جبکہ مقابلہ نہ ہونے یا محدود حریفوں کی موجودگی کے باعث امیدوار آسانی سے منتخب قرار پائے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ ووٹنگ کی شرح ننانوے فیصد سے بھی زیادہ رہی، جب کہ ووٹرز کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ شرح عوامی اتحاد اور ریاستی قیادت پر بھرپور اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
تاہم عالمی مبصرین اور تجزیہ کار اس طرح کے نتائج کو روایتی جمہوری اصولوں کے برعکس قرار دیتے ہیں اور ان اعداد و شمار پر سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔
مزید یہ کہ چند ووٹ مخالف امیدواروں کے خلاف ڈالے جانے کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جسے بعض ماہرین انتخابی عمل کو بظاہر متنوع ظاہر کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
دریں اثنا، نئی منتخب ہونے والی سپریم پیپلز اسمبلی کا اجلاس 22 مارچ کو بلایا گیا ہے، جس میں آئینی امور اور اہم پالیسی فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں