ملتان (سٹاف رپورٹر)شجاع آباد میں بااثر افسران کی مبینہ پشت پناہی اور پولیس پر دباؤ ڈال کر مقدمات درج کروانے کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔سٹیج ڈانسر اور ٹک ٹاکر بہنوں کے خلاف الزامات نے انتظامی و عدالتی حلقوں میں سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ شجاع آباد کی رہائشی صبیحہ بی بی نے اپنی بہن اور دیگر عزیز و اقارب کے ہمراہ روزنامہ قوم کے دفتر آ کر الزام عائد کیا کہ سٹیج آرٹسٹ مہوش عرف مشی ملک اور اس کی بہن پلوشہ ملک نے دو بااختیار صوبائی افسران کی مبینہ سرپرستی میں تھانہ سٹی شجاع آباد پولیس پر دباؤ ڈال کر ان کے خاندان کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج کروائے۔ صبیحہ بی بی کے مطابق ان کے چچا زاد بھائی حسن عباس کھاکھی نے پلوشہ ملک سے شادی کی تھی جس کے بعد گھریلو تنازعات نے شدت اختیار کر لی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک روز مہوش اور پلوشہ نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر انہیں مبینہ طور پر گھر سے باہر گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ اطلاع پر پولیس نے ابتدائی طور پر درخواست وصول کر کے میڈیکل کے لیے ریفر کرنے کی کارروائی کی تاہم بعد ازاں ایک صوبائی محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایک عدالتی افسر کی مبینہ مداخلت پر تھانے میں صلح کرا دی گئی۔ متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ چند روز بعد انہی بااثر افسران کے دباؤ پر مقدمہ نمبر 2048/25 پلوشہ ملک کی مدعیت میں صبیحہ بی بی، ان کی بہن فردوس بی بی اور دیگر رشتہ داروں حسن اور عمر کے خلاف مارپیٹ اور چوری کے الزامات کے تحت درج کیا گیا، جس میں بعد ازاں ڈکیتی، طلائی زیورات اور 30 ہزار روپے چھیننے کی دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔ اس وقت عمر کی درخواست ضمانت ہائی کورٹ سے خارج ہو چکی ہے جبکہ دیگر ملزمان کو مفرور قرار دیئے جانے کا بتایا جا رہا ہے۔ صبیحہ بی بی نے مزید الزام لگایا کہ مذکورہ ڈپٹی ڈائریکٹر کی سبز نمبر پلیٹ اور نیلی بتی والی گاڑی ٹک ٹاکر بہنوں کو پروٹوکول فراہم کر رہی ہے اور ملتان پبلک سکول روڈ پر ان کے کرائے کے گھر کے باہر موجود رہتی ہے۔ اس حوالے سے جب جے اے سی (JAC) ڈبل کیبن ڈالے کا ایکسائز ریکارڈ چیک کیا گیا تو مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ گاڑی نجی ملکیت کی ہے، تاہم اس پر سبز نمبر پلیٹ اور نیلی بتی نصب ہےجس سے اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس افسران حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود بااثر شخصیات کے دباؤ کے باعث آزادانہ کارروائی سے قاصر ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، سرکاری وسائل کے مبینہ غلط استعمال کا نوٹس لیا جائے اور بے گناہ افراد کو انصاف فراہم کیا جائے۔






