لاہور: تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جیل میں قید کارکنان اور رہنما پارٹی کی بیرونی قیادت کی جانب دیکھ رہے ہیں اور ان کے لیے کسی عملی اقدام کی توقع رکھتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے اپیل کی کہ پارٹی کی بیرونی قیادت اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد قائم رکھے اور جیل میں موجود ساتھیوں کے لیے اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی بیان بازی اور نکتہ چینی سے گریز کیا جائے، کیونکہ جیل میں قید کارکنوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ نظریات میں فرق ہو سکتا ہے، لیکن ایک دوسرے سے عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں قیدی نمبر 805 ہوں، یہ نمبر مجھے پارٹی بانی نے دیا تھا۔ میں پوری دیانتداری سے کہتا ہوں کہ جن مقدمات میں مجھے جیل میں رکھا گیا ہے، ان میں میرا کوئی کردار نہیں۔ میں کسی بھی سازش، تخریب کاری یا پرتشدد واقعے میں شامل نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے خلاف مختلف شہروں میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، راولپنڈی میں 14 میں سے ضمانت مل چکی ہے، ملتان میں 5 مقدمات میں بھی ضمانت ہو چکی ہے جبکہ لاہور میں 14 مقدمات میں سے 8 میں ضمانت حاصل ہو چکی ہے اور باقی 6 زیر سماعت ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فی الحال ان کی توجہ اپنی اپیل پر مرکوز ہے، اور وہ پنجاب حکومت کی کارکردگی پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انتشار پھیلانے کے بجائے حالات کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔







