اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں شادی سے قبل دلہا اور دلہن کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ سے متعلق بل پر غور کیا گیا۔
رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم تھیلیسیمیا مائنر والدین کی شادی پر پابندی کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ تجویز دے رہے ہیں کہ شادی سے قبل دولہا اور دلہن کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ کروایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی 5 سے 8 فیصد آبادی تھیلیسیمیا مائنر ہے، اور ابتدائی طور پر اسلام آباد میں اس پراجیکٹ کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیسٹ لازمی نہیں بلکہ رضامندی کی بنیاد پر ہوگا۔
اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے اجلاس کو بتایا کہ ابھی تک لا ڈویژن سے اس بل پر جواب موصول نہیں ہوا، جبکہ مزید بیماریوں کو بھی اس میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
شرمیلا فاروقی نے شکایت کی کہ پرائیویٹ ممبران کے بلز کو مناسب سپورٹ نہیں دی جاتی، حالانکہ یہ بل تھیلیسیمیا جیسے سنگین مسئلے کے حل کی طرف ایک سنجیدہ قدم ہے۔
اجلاس کے دوران اعجاز جاکھرانی نے بل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا اور عوامی فلاحی بل ہے، جس پر غیر ضروری اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ بل کو متفقہ طور پر منظور کیا جائے، جس پر تمام اراکین نے حمایت کی، سوائے جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران کے۔
دوسری جانب اجلاس میں نرسنگ کونسل کی غیر حاضری پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے نرسنگ کونسل کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی، جبکہ اسپیشل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ نرسنگ کونسل عدالتی حکم امتناع کو جواز بنا کر کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو رہی۔ چیئرمین نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھنے اور کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
رکن اسمبلی نثار احمد نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک سال سے جواب مانگا جا رہا ہے، لگتا ہے مزید ایک سال انتظار کرنا پڑے گا تاکہ متعلقہ افراد کا وقت پورا ہو جائے۔ عالیہ کامران نے سوال اٹھایا کہ وزٹ ویزہ پر جا کر کوئی خاتون کیسے ڈگری حاصل کر سکتی ہے؟ وزارت صحت اس معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔
اجلاس میں وزارت صحت سے نرسنگ کونسل کے صدر کی تعیناتی سے متعلق بھی واضح موقف کا مطالبہ کیا گیا۔







