سی اینڈ ڈبلیو بہاول پور، 10 کروڑ کی مشکوک ایڈوانس ادائیگی، اعلیٰ حکام کی پر اسرار خاموشی

بہاولپور(انویسٹی گیشن سیل)ضلع بہاولپور میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو (بلڈنگ ڈویژن ون) کے اندر مبینہ طور پر 10 کروڑ روپے کی مشکوک ایڈوانس ادائیگی کا معاملہ، اعلیٰ حکام نے کوئی نوٹس نہ لیا ۔قوم کے پیسے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔بلڈنگ ڈویژن ون بہاولپور کے ایکسین نثار کی جانب سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی ادائیگی کام مکمل ہونے یا سائٹ ویریفکیشن کے بغیر ایڈوانس کی صورت میں کر دی گئی جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا بیڑا اٹھایا گیا ہے اس مالی بے ضابطگی کو سامنے آئے پندرہ دن سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن کسی حکام بالا نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور 2800 ملن روپے کی خطیر رقم سے بنایا جانے والا منصوبہ کسی بھی وقت ضائع ہوسکتا ہے میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس معاملے کی نشاندہی کی گئی، تاہم حیران کن طور پر تاحال کسی بھی ذمہ دار ادارے کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔معاملے کی حساسیت کے باوجود کمشنر بہاولپور، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، چیف انجینئر بلڈنگ لاہور، ڈی جی اینٹی کرپشن، ڈپٹی کمشنر بہاولپور سمیت دیگر ذمہ دار افسران کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔شہری و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ادائیگی قواعد و ضوابط کے مطابق تھی تو متعلقہ حکام کو سامنے آکر حقائق واضح کرنے چاہئیں، جبکہ اگر اس میں بے ضابطگی موجود ہے تو پھر کارروائی میں تاخیر بدعنوانی کو تحفظ دینے کے مترادف سمجھی جا رہی ہے۔ماضی کی ایف آئی آرز بھی منظر عام پر مذکورہ ایکسین کے خلاف ماضی میں بھی 7/22 کے تحت ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں، تاہم ان مقدمات میں بھی خاطر خواہ پیش رفت یا مثال بننے والی کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔وزیراعلیٰ پنجاب سے اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ اس صورتحال کے پیش نظر معاملے کی فوری اعلیٰ سطحی انکوائری کروائی جائے۔ایک آزاد اور غیر جانبدار ٹیم کو موقع پر بھیج کر سائٹ ویریفکیشن کرائی جائے۔اگر مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کے جو دعوے کیے ہیں، ان کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ایسے معاملات میں بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور قومی خزانے کو لوٹنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں