سینیٹ اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں 14 اگست کو دیے گئے سول ایوارڈز کا ذکر کیا گیا۔ ان ایوارڈز میں اسحاق ڈار، محسن نقوی، مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، فیصل سبزاوری، شیری رحمان، بشریٰ انجم، احد چیمہ، عرفان صدیقی اور سرمد علی شامل ہیں۔
ایوارڈز کی تقسیم پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ اعزازات کس بنیاد پر دیے گئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے طنز کیا کہ عطا تارڑ نے کون سی جنگ لڑی تھی، جبکہ ہمایوں مہمند نے کہا کہ جنگ کا ڈیزائن بنانے والے نواز شریف کو ایوارڈ نہیں ملا۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنوں نے “معرکہ حق” میں بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو رات بھر جاگ کر بے نقاب کیا، لیکن انہیں نظرانداز کر دیا گیا، اس عمل نے ایوارڈ کی قدر کم کر دی۔
وزیر قانون نے وضاحت دی کہ معرکہ حق کے شہداء، غازیوں اور متاثرہ خاندانوں کو بھی اعزازات دیے گئے ہیں، اور کہا کہ ہمیں دل بڑا کرنا چاہیے۔ اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کچھ سینیٹرز نے بیرون ملک سفارتی محاذ پر ملک کی نمائندگی کی۔
فیصل جاوید نے 14 اگست کے سرکاری اشتہارات میں قائداعظم کی تصویر نہ لگانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنے خاندان کی تصاویر لگائیں مگر بانی پاکستان کو نظرانداز کیا۔ وزیر قانون نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اور انکوائری کا وعدہ کیا۔
اجلاس میں یومِ آزادی سے متعلق متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں پاکستان کے بانیان، آئین سازوں اور افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
مزید برآں، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بلوچستان کے 36 اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا، جس پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ یہ اقدامات سکیورٹی خدشات کے باعث کیے گئے ہیں اور صرف متاثرہ علاقوں تک محدود ہیں۔







