اسلام آباد: ڈپٹی چیئرمین سیدالناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے، جس میں آج 27 ویں آئینی ترمیم کا نیا مسودہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی سے منظور شدہ 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ کو موصول ہو گیا ہے، جس میں 56 شقیں شامل ہیں۔ سینیٹ میں اس بل کے 8 نکات کی منظوری دی جائے گی۔
ستائیسویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 255، آرٹیکل 214، آرٹیکل 168 کی شق دو اور آرٹیکل 42 میں کی جانے والی ترامیم کو حذف کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی نے اضافی ترامیم کے ذریعے آرٹیکل 6 کی شق 2اے اور آرٹیکل 10 کی شق 2اے میں تبدیلی کی ہے۔
آرٹیکل 176 اور آرٹیکل 260 میں بھی ترامیم کی گئی ہیں، جن میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو واضح کیا گیا اور وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا۔
اضافی ترامیم کی منظوری سینیٹ سے کروائی جائے گی۔ قومی اسمبلی نے سینیٹ سے منظور شدہ چار ترامیم کو مزید تین میں تبدیل کیا اور آرٹیکل 6 کی شق 2اے میں نئی ترمیم بھی منظور کی۔
اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر کو طلب کیا گیا ہے، جس میں آئینی ترامیم کی روشنی میں قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔
گزشتہ روز 27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہوئی تھی۔ حکومت کے پاس 234 ارکان موجود تھے، تاہم جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا۔







