بہاولپور؛طالبہ زیادتی، لیڈی ڈاکٹر کی سہولت کاری، میڈیکل رپورٹ میں معاملہ مشکوک

سیماب کیس ،مریم نواز کے احکامات رد،پولیس ،ایم او تفتیش کمزور کرنے میں مصروف

بہاولپور ( کرائم سیل) تیزاب گردی اور اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی سیماب کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کے باوجود پولیس اور میڈیکل آفیسر کے کیس کو کمزور کرنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں ۔متوفیہ نوکری کی تلاش میں فورٹ عباس سے بہاولپور آکر آصف ٹاؤن میں ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں رہائش پذیر ہوئی مگر تین دن تک ہاسٹل سے غائب رہنے کے باوجود ہاسٹل انتظامیہ نے ورثا کو مطلع نہیں کیا۔ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے والی (س) کی حالت غیر ہونے پر ملزمان جب اسے ہسپتال داخل کروانے آئے تو ہسپتال انتظامیہ کو شک پڑنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی تو تھانہ کینٹ کی پولیس آئی جنہوں نے تھانہ بغداد الجدید کی حدود کا کہہ کر اپنی جان چھڑائی اور تھانہ بغداد کی پولیس نے ہسپتال آکر بچی کے ورثا کو اطلاع دی اور اسی روز متوفیہ کے بھائی زوہیب اقبال کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 2390/24 زیادتی کی خاطر اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرکے تفتیش جنسی جرائم یونٹ کی انچارج زنیرہ لطیف نے شروع کر دی مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ متاثرہ بچی کے جسم پر تیزاب گردی کو دیکھنے اور میڈیا کی نشاند ہی کے باوجود تیزاب گردی کی دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی گئی ۔تفتیشی ذرائع کے مطابق اقدام قتل کی دفعات ایزاد کئی اور آخر کار پندرہ روز کی تکالیف اٹھانے کے بعد متوفیہ فوت ہوگئی جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کر لی مگر پولیس سمیت میڈیکل آفیسر تمام تر صورتحال پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔پولیس کی تفتیشی ٹیم میڈیکل آفیسر پر تیزاب گردی کا میڈیکل رپورٹ میں تحریر نہ کرنے پر ہسپتال انتظامیہ سے شکایت کررہے ہیں جبکہ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق پندرہ روز تک متاثرہ کی جان بچانے کے لیے تگ ودو کرتے رہے ہیں پولیس غریب خاندان کو انصاف دلانے میں ناکامی پر میڈیکل آفیسر پر الزامات لگا رہے ہیں۔روزنامہ قوم کرائم سیل نے ترجمان بہاولپور سے تیزاب گردی اور اجتماعی زیادتی کا شکار متوفیہ کی وفات کے بعد سوالات اٹھائے کہ
1۔تفتیشی افسر سے یہ کنفرم کر کے بتائیں کہ متاثرہ بچی کا موبائل و دیگر کیا شواہد ملے ہیں ۔
2۔ تفتیشی افسر نے متاثرہ لڑکی کا نقشہ مضروبی میں ضربات کی کیا تفصیلات درج کی ہیں۔
3۔ کیا تفتیشی ٹیم نے میڈیکل آفیسر کو متاثرہ کے ساتھ زنا بالجبر / گینگ ریپ کی تصدیق کیلئے طبعی ملاحظہ کے لیے درخواست دی گئی ہے۔
4 ۔swabs تجزیہ کے لیے PFSA بھجوائے گئے ہیں؟۔ ترجمان پولیس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں