تازہ ترین

سیلاب میں مری مچھلی منڈیوں میں “زندہ”، ملتان میں گھناؤنا دھندہ، مافیا کی پانچوں گھی میں

ملتان (زین العابدین سے)ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں مچھلی منڈی اور بازاروں میں باسی اور مردہ مچھلیاں خطرناک حد تک فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے انسانی صحت شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ماہی فارم مالکان نے سیلاب کے بعد اپنی مچھلیاں سستے داموں منڈی والوں کو فروخت کیں، جو اب بازار میں بیچی جا رہی ہیں،جس سے شہری و طبی حلقے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔حکام اور ذرائع کے مطابق، جنوبی پنجاب میں 2025 کے مون سون کے دوران سیلاب جون سے شروع ہو کر ستمبر تک جاری رہا، خاص طور پر 26 جون 2025 سے شدید سیلاب کا سلسلہ جاری رہا جس نے دریائوں کو طغیانی پر لا دیا۔اس سیلاب نے متعدد فش فارمز کو تباہ کر دیا،ذرائع کے مطابق جس کے نتیجے میں بہت سے فارمرز نے مچھلی کو 10 سے 50 روپے فی کلو کے حساب سے منڈی والوں کو بیچ دیا، تاکہ اپنے نقصان کو کچھ حد تک ازالہ کیا جا سکے۔ تاہم یہ مچھلیاں غیر معیاری، باسی اور بعض اوقات مردہ حالت میں تھیں، جنہیں مچھلی فروشوں نےبعد میں فریز کرکے پھر فروخت کے لیے رکھ دیا گیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ مچھلی منڈی میں یہ باسی اور مردہ مچھلیاں تازہ کر کے فروخت ہو رہی ہیں، بہت سی مچھلیاں مچھلی منڈی، خونی برج اور دیگر بازاروں میں بیچی جا رہی ہیں، جہاں پر کھلے عام عوام کو سستے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ متعدد تلی ہوئی مچھلی کے دکاندار بھی یہی باسی مچھلی استعمال کر رہے ہیں، جس سے فوڈ پوائزننگ، گیسٹرو، ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ اور دیگر امراض کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایک مقامی شہری نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ “ہم نےمنڈی سے سستی مچھلی خریدی، چند دن بعد پیٹ میں شدید تکلیف اور الٹیاں شروع ہوگئیں، ڈاکٹر نے فوڈ کازہریلا پن بتایا۔” دوسری طرف ایک تلی ہوئی مچھلی بیچنے والے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر قوم کو بتایا کہ “ہمیں مخصوص مچھلی فروشوں سےسستی مچھلی ملتی ہے، اسے فریزر میں رکھ کر بیچنا پڑتا ہے، گاہک ہمیشہ سستے کا انتخاب کرتے ہیں۔”شہریوں اور طبی ماہرین نے فوڈ اتھارٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، کیونکہ منڈیوں اور کھلے بازاروں میں ایسی باسی مچھلی کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے، مگر فوڈ اتھارٹی کا کوئی مؤثر چیک یا معائنہ نظر نہیں آتا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فوڈ اتھارٹی کے بعض افسران مخصوص مچھلی فروشوں کے ساتھ مبینہ طور پر تعلقات رکھتے ہیں، جس کے باعث معیاری خوراک کی نگرانی میں غفلت برتی جا رہی ہے، جبکہ رشوت اور مافیا جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ باسی اور مردہ مچھلی کا استعمال نہ صرف غذائی زہریلا پن کا باعث بنتا ہے بلکہ ہیپاٹائٹس، ڈائریا، فوڈ انٹاکسیکیشن، اور دیگر خطرناک انفیکشنز کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ ان امراض کے کیسز ملتان کے ہسپتالوں میں رپورٹ ہو رہے ہیں، جہاں روزانہ متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔شہریوں نے حکومتِ پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی سے فوری کارروائی، منڈیوں میں سخت معائنہ، غیر معیاری مچھلی بیچنے والوں کے خلاف جرمانے اور ذمہ دار افسران سے بازپرس کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ مزید قیمتی جانیں خطرے سے بچائی جا سکیں۔

سستے پلیٹرزمیں بھی مردہ مچھلیاں استعمال، فارم مالکان کی تصدیق

ملتان (نامہ نگار خصوصی) سستے پلیٹرز میں فروخت ہونے والی مچھلی سیلاب کی مردہ مچھلیاں نکلیں،فش فارم مالکان نے کئی ٹن مچھلی ارزاں نرخوں پر فروخت کرنے کی تصدیق کر دی۔تفصیل کے مطابق روزنامہ قوم نے چند روز قبل اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ملتان میں فروخت ہونے والے سستے پلیٹرز میں شامل مچھلیاں مضرِ صحت اور باسی ہیں، جس سے شہری فوڈ پوائزننگ اور دیگر امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اب اسی رپورٹ کی تصدیق ایک نئے انکشاف کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ یہی مچھلیاں دراصل سیلاب میں بہہ جانے والے فش فارمز سے تعلق رکھتی ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ برس جنوبی پنجاب کےسیلاب نے درجنوں فش فارمز کو تباہ کر دیا تھا۔ سیلاب کے باعث مرنے والی اور بہہ جانے والی مچھلیاں بعد ازاں منڈیوں میں 10 سے 50 روپے فی کلو تک کے ارزاں نرخوں پر فروخت کی گئیں۔ انہی مچھلیوں کو بعد میں فریز کر کے مختلف شہروں خصوصاً ملتان، میں سپلائی کیا گیا، جہاں انہیں سستے پلیٹرز اور تلی ہوئی مچھلی کے نام پر فروخت کیا جا رہا ہے۔قوم سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملتان کے ایک معروف فش فارم مالک نے تصدیق کی کہ “سیلاب کے بعد مارکیٹ میں مردہ اور باسی مچھلیوں کی بڑی مقدار منڈی والوں نے خریدی۔ کئی افراد نے اپنے نقصان سے بچنے کے لیے ٹنوں مچھلی فروخت کر دی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ “پچھلے چند سال سے مچھلی کی قیمتیں وہیں کی وہیں ہیں جبکہ فیڈ اور دیگر اخراجات ہر سال بڑھ رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں شدید گھاٹے کا سامنا ہے، جس نے کئی فارم مالکان کو نقصان پورا کرنے کے لیے باسی مچھلی بیچنے پر مجبور کر دیا۔”ماہرین کے مطابق یہی وہ وجوہات ہیں جنہوں نے بازاروں میں سستی مگر مضرِ صحت مچھلی کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے، اور وہی مچھلیاں اب مختلف ریسٹورنٹس اور فُٹ پاتھ ڈھابوں کے پلیٹرز کا حصہ بن چکی ہیں، جن کا انکشاف روزنامہ قوم نے سب سے پہلے کیا تھا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوڈ اتھارٹی نے اُس وقت قوم کی خبر پر کارروائی کی ہوتی تو آج مضرِ صحت مچھلی اور سستے پلیٹرز کی شکل میں شہریوں کی صحت خطرے میں نہ ہوتی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں