ملتان(سٹاف رپورٹر)آدھے تمہارے اور آد ھے ہمارے۔حکومت کی طرف سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی رقوم کی تقسیم میں کاریگر پٹواریوں نے ٹائوٹوں کو بیچ میں ڈال کر امدادی رقوم کی لو ٹ مار شروع کردی اور سروے کی آڑ میں بڑے پیمانے پر سیلاب متاثرین کی امدادی رقوم کو لوٹنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس پر اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں دھول جھونک کر عمل درآمد جاری ہے۔روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کےمطابق حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا تھا کہ جن لوگوں کے پختہ گھر مکمل طور پر مسمار ہوگئے ہیں انہیں دس لاکھ روپےامدادی رقم دی جائیگی جن پکے گھروں کا جزوی نقصان ہوا ہے انہیں 5 لاکھ روپے اور جن کے کچے مکان گرے ہیں انہیں اڑھائی لاکھ روپے دیئے جائیں گے اس اعلان کے بعد پرائیویٹ لوگوں کے ذریعے سروے کرائے گئے ہیں اوران پرائیویٹ لوگوں میں محکمہ مال کے عملےنے اپنے ٹائوٹ بھی چھوڑ دیئے جنہوں نے ڈیل کرنا شروع کردی اور جن جن سیلاب متاثرین سے ڈیل کی گئی ان کا سروے میں زیادہ نقصان دکھایا گیا اور جن کے ساتھ ڈیل نہ ہوسکی ان کے مکمل نقصان کے باوجود ان کو نظر انداز کردیا گیا۔حکومت پنجاب نے شفاف پالیسی بنائی تھی کہ سروے کی روشنیمیں موبائل پر میسج سیلاب متاثرین کو بھیج دیا جاتا ہے جسے محکمہ مال کے دفتر میں دکھا کر کارڈ جاری کردیا جاتا ہے اور اس اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے پیسے صرف سیلاب متاثرہ شخص نکلواسکتا ہے مگر سروے کے دوران جن جن متاثرین سے ڈیل ہوچکی ہے ان کے ساتھ پٹواری اپنے پرائیویٹ بندوں کو بھیج کر طے شدہ شرح کے مطابق نقد رقم لے لیتے ہیں بلکہ ایسی شکایات بھی ہیں کہ متاثرین کے کارڈ لیکر یہ ٹائوٹ خودہی رقم نکلوا کر اپنا حصہ رکھ لیتے ہیں اور چونکہ سیلاب سے متاثرہ شخص کا نقصان پہلے ہی سروے میں زیادہ دکھایا جاچکا ہوتا ہے لہٰذا اس سے رقم لے لی جاتی ہے ۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زیادہ نقصان والے د ھکے کھا رہے ہیں اور بعض متاثرین 20 سے 50ہزار میں ہی فارغ کردیئے جاتے ہیں جبکہ جن کے ساتھ معاملات سروے کے دوران طے ہوچکے تھے انہیں اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے ملنے والی رقم میں بھی اپنا حصہ محکمہ مال کے پٹواری رکھ لیتے ہیں اور اس مقصد کے لئے بعض پولیس ملازمین کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو متاثرین کو دھمکاتے ہیں کہ اگر اس نے چالاکی کی تو اس کے اصل نقصان کی تصاویر کے مطابق اسے فراڈ کے مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔







