سپریم کورٹ کا حکم پھر پامال،یونیورسٹیوں میں ٹینیورڈ پوزیشنز،رجسٹرا رخزانچی،کنٹرولر کی مستقل تعیناتیاں نہ ہوسکیں

ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے بھر کی یونیورسٹیوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں بالترتیب 11 جولائی 2024 زبانی حکم اور 29 اگست 2024 کے تحریری حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے یونیورسٹیوں میں ٹینیورڈ پوزیشنز رجسٹرار خزانچی کنٹرولر کو عارضی طور پر پُر کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور ان یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی کہ اس حکم کی وصولی کے چودہ دن کے اندر تحریری وضاحت جمع کروائیں کہ کیوں کر قابل اطلاق قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے اور اس پر طلبی ہو گی، یہ بھی حکم دیا گیا کہ سماعت کی اگلی تاریخ پر ہر یونیورسٹی کی طرف سے اس حوالے سے تفصیلات بشمول دوسرے امور بھی عدالت کو فراہم کیے جائیں اور اس آرڈر کی کاپیاں متعلقہ وائس چانسلرز/ ریکٹرز اور ان سب کے لیے جو تعمیل نہیں کرتےکو نوٹس کی وصولی کے دو ہفتوں کے اندر اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں اس بات کی بھی وضاحت طلب کی گئی تھی کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل کیوں نہیں کر رہے۔ یہ بھی حکم دیا گیا کہ جن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ نے اب تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل نہ کی ہے وہ اپنے جواب میں اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یاد رہے کہ 29 اگست 2024 کے اس فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام ٹنیورڈ پوزیشنز (طے شدہ مدتی ملازمتیں) بشمول رجسٹرار خزانچی اور کنٹرولر کی مستقل تعیناتیوں کے لیے تین ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی مگر چھ ماہ گزرنے کے باوجود تا حال بھی پنجاب کی متعدد یونیورسٹیوں میں یہ خلاف ورزی دھڑلے سے جاری و ساری ہے۔ یاد رہے کہ ملتان کی سب سے بڑی یونیورسٹی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں پچھلے عارضی رجسٹرار ڈاکٹر علیم خان کے بعد نئے عارضی رجسٹرار اعجاز احمد کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے منافی یہ عہدہ سونپ دیا گیا اور کنٹرولر کی کرسی پر پچھلے 5 سال سے زائد عرصے سے ڈاکٹر امان اللہ عارضی کنٹرولر کے کرسی پر فائض ہیں اور یہ بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی توہین ہے۔ اسی یونیورسٹی میں خزانچی کی آسامی پر گزشتہ 6 سال سے صفدر عباس عارضی چارج پر قابض ہیں۔ خواتین یونیورسٹی میں ایکٹنگ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ، عارضی رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ، عارضی کنٹرولر ڈاکٹر حنا علی، عارضی خزانچی ڈاکٹر سارہ مصدق، جبکہ محمد نواز شریف یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں رجسٹرار گزشتہ 15 سال سے عارضی طور پر ڈاکٹر عاصم عمر تعینات ہیں، کنٹرولر ڈاکٹر ایاز اور خزانچی کی آسامی پر محمد نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی کے ایڈیشنل خزانچی اور رجسٹرار آصف نواز قابض ہیں۔ ڈاکٹر ایاز کنٹرولر اور محمد نواز شریف یونیورسٹی ایگریکلچر کے سابقہ رجسٹرار آصف نواز کی بطور خزانچی ایکسٹینشن کے لیے درخواستیں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیج دی گئی ہیں۔ اور بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر ہر آنے والے وائس چانسلر کو رام بھی کر لیتے ہیں اسی بابت محمد نواز شریف یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں تاحال کوئی مستقل رجسٹرار، مستقل خزانچی اور کنٹرولر تعینات نہ ہو سکا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں تاحال وائس چانسلر کی آسامی بالکل خالی ہے حتیٰ کہ اسلامیہ یونیورسٹی میں کوئی پرو وائس چانسلر بھی موجود نہ ہے۔ جبکہ رجسٹرار کی آسامی پر عارضی طور پر شجیع الرحمان، خزانچی کی کرسی پر عارضی طور پر عبدالستار ظہوری اور کنٹرولر کی کرسی پر عارضی طور پر ذریت الظہرا گزشتہ دو سال سے فائز ہیں۔ یہی حال صوبہ پنجاب کہ باقی یونیورسٹیوں میں بھی تاحال قائم و دائم ہے۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ نا اہلی کے باعث یہ عہدے گزشتہ کئی برسوں سے ایڈیشنل چارج یا عارضی بنیادوں پر اس دیے جا رہے ہیں کہ انہیں دباو میں رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام لئے جا سکیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس عارضی مدت کی گنجائش پاکستان، پنجاب اور خود ان یونیورسٹیوں کے قانون میں تو زیادہ سے زیادہ 6 ماہ ہے مگر حیران کن طور پر ان آسامیوں پر 15,15 سال سے لوگ ناجائز اور غیر قانونی طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی توھین کرتے ہوئے قابض ہیں اور یہ عہدے اور ان کے دہائیوں پر محیط عارضی مدتیں ریٹائرمنٹ کے بعد ہی ختم ہو پاتی ہیں جبکہ اکثر لوگ مدت ختم ہونے کے بعد بھی معاملات کو مینیج کر کے ان عہدوں پر قابض رہتے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ آنکھیں بند کیے ہوئے سہولت کاری کا مرتکب ہو رہا ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی کھلے عام پامالی کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں