اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 72 شوگر ملز پر عائد جرمانوں سے متعلق مقدمے میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اگلے جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ یہ سماعت مسابقتی کمیشن کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست پر کی گئی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت مسابقتی کمیشن کی وکیل عصمہ حامد نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے سابقہ حکم میں کیس کمیشن کے بجائے ٹریبونل کو واپس بھیج دیا، حالانکہ کمیشن چاہتا ہے کہ حکم نامے میں ٹریبونل کے بجائے مسابقتی کمیشن کو کیس سننے کا اختیار دیا جائے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اپیل کا مقصد صرف یہی نکتہ ہے تو عدالت اس حوالے سے حکم جاری کر سکتی ہے۔ تاہم جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ عدالت تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ مسابقتی کمیشن میں مقدمات برسوں سے التواء کا شکار رہتے ہیں، جو تشویشناک امر ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مسابقتی کمیشن کے چار ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کے خلاف کیس کی سماعت کی تھی، جس میں چیئرمین سمیت دو ممبران نے جرمانے عائد کرنے کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ دو ممبران نے شوکاز نوٹسز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔ چونکہ فیصلہ برابر ووٹوں پر ہوا، اس لیے قانون کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوا۔
بعد ازاں درخواست گزار شوگر ملز نے متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا، جس نے 90 دن کے اندر کیس دوبارہ سن کر فیصلہ دینے کی ہدایت کی۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ چیئرمین کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونے کے بعد دوبارہ فیصلہ کن ووٹ دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا اطلاق صرف انتظامی معاملات تک محدود ہے، جبکہ عدالتی نوعیت کے کیسز میں ٹریبونل ہی 90 روز کے اندر فیصلہ کرے گا۔







