تازہ ترین

سپریم کورٹ، ہائر ایجوکیشن کے احکامات نظرانداز، صادق یونیورسٹی غیرقانونی تعیناتیاں، بدعنوانی

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج وومن یونیورسٹی بہاولپور میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر بیٹھے افراد کی جانب سے قانون، عدالتی فیصلوں اور سرکاری احکامات کو کھلم کھلا نظرانداز کرنے کے انکشافات نے پنجاب کے نظامِ اعلیٰ تعلیم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے مورخہ 24 اکتوبر 2024 کے صریحاً برخلاف 30 ماہ سے زائد عرصہ سے غیر قانونی طور پر رجسٹرار کے عہدے پر براجمان رہیں، نہ صرف خود قانون شکنی کی مرتکب ہوئیں بلکہ اپنے قریبی کماؤ پوت منصور احمد خان کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرتی رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منصور احمد خان، جو اسسٹنٹ خزانچی کے عہدے پر تعینات رہے اور جن کے خلاف متعدد مالی و انتظامی انکوائریاں زیرِ التواء تھیں، نے رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کی کمزوریوں کو بطور بلیک میلنگ استعمال کرتے ہوئے ان انکوائریوں کو دانستہ طور پر کھڈے لائن لگوا دیا۔ حیران کن طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ واضح تحریری حکم نامے کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، جس میں اسسٹنٹ خزانچی منصور احمد خان کے خلاف ڈی نوو فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا دو ٹوک حکم دیا گیا تھا۔ دستاویزی ریکارڈ کے مطابق حکومتِ پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیٹر نمبر NO. SO(Univ.)25-4/2017 مورخہ 26 دسمبر 2019 میں واضح طور پر ہدایت کی گئی تھی کہ منصور احمد خان، اسسٹنٹ خزانچی کے خلاف PER میں مبینہ ٹیمپرنگ کے معاملے پر ایک غیر جانبدار انکوائری کمیٹی کے ذریعے ڈی نوو انکوائری کی جائے۔ اس حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ سابقہ انکوائری رپورٹ منصور احمد خان کی عدم موجودگی میں مکمل کی گئی، جس میں انہیں مناسب سماعت کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ لہٰذا شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نئی انکوائری میں ملزم افسر کو مکمل حقِ دفاع اور شواہد پر جرح (Cross Examination) کا موقع دیا جانا لازم قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حکم پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا، جو سرکاری احکامات کی صریح توہین کے مترادف ہے۔ مزید برآں وائس چانسلر گورنمنٹ صادق کالج وومن یونیورسٹی ڈاکٹر شازیہ انجم نے بھی منصور احمد خان کے خلاف کارروائی سے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیے کہ “یہ کیس مجھ سے پہلے کا ہے، میں اس پر کوئی انکوائری نہیں کر سکتی” — جسے تعلیمی و انتظامی حلقے صریح نااہلی، اختیارات سے فرار اور دانستہ چشم پوشی کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں۔ادھر ایک اور تشویشناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے یونیورسٹی دورے کے دوران وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم نے یونیورسٹی کی سرکاری HAVAL گاڑی ایک متنازع شخصیت چوہدری اشرف کو فراہم کی، جو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا گریڈ 14 کا کلرک تھا اور گورنمنٹ صادق کالج وومن یونیورسٹی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات رہنے کے بعد متعدد شکایات کی بنیاد پر واپس بھیجا جا چکا تھا۔ بعد ازاں موقف لینے پر وائس چانسلر کا یہ کہنا کہ “ڈپٹی اسپیکر صاحب کی ضد تھی” — انتظامی اختیار کے غلط استعمال اور پروٹوکول کے نام پر غیر متعلقہ افراد کو نوازنے کی کھلی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم نے کیمسٹری کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے باوجود، غیر قانونی طور پر رجسٹرار کے عہدے پر براجمان رہتے ہوئے خود ہی پروفیسر آف کیمسٹری کے لیے درخواست دی، خود ہی وہ درخواست وصول کی، خود ہی اپنے من پسند ایکسپرٹس اور ایویلیویٹرز کی فہرست منظور کروائی اور یوں Conflict of Interest کی بدترین مثال قائم کی۔ اس غیر شفاف عمل کو بعد ازاں سنڈیکیٹ کی ریگولر میٹنگ میں خاموشی سے منظور کروا لیا گیا، جس کے بعد سنڈیکیٹ کے کردار اور خودمختاری پر بھی سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تعلیمی و قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحریری احکامات اور یونیورسٹی قوانین کو اس طرح پامال کیا جاتا رہا تو جامعات علم و تحقیق کے مراکز کے بجائے ذاتی مفادات اور طاقت کے قلعے بن کر رہ جائیں گی۔ اعلیٰ حکام، وزیر اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوری طور پر غیر قانونی تعیناتیوں، دبائی گئی انکوائریوں، سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور مفادات کے اس گٹھ جوڑ کی آزاد، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قانون کی بالادستی اور اعلیٰ تعلیم کے نظام کا وقار بحال ہو سکے۔ اس بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ 3 دن گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہ دے سکی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں