ملتان (سٹاف رپورٹر) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی تعیناتی کے بعد جہاں ایک طرف نوٹیفکیشنز جاری ہونا شروع ہو گئے ہیں وہیں دوسری جانب کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ 2026 کے مطابق ملک کا اعلیٰ تعلیمی نظام زوال کی ایسی تصویر پیش کر رہا ہے جس نے ہر باشعور شہری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین ایچ ای سی نے عہدہ سنبھالتے ہی اپوائنٹمنٹس، پروموشنز، انتظامی امور سے متعلق متعدد نوٹیفکیشنز جاری کیے، مگر حیران کن طور پر ان اقدامات میں تعلیمی معیار، تحقیق کی بہتری اور ادارہ جاتی کارکردگی کا کہیں ذکر تک نہ مل سکا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف کاغذی کارروائیوں سے تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ حالیہ عالمی رینکنگ نے اس سسٹم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ تقریباً 280 جامعات میں سے محض 18 کا عالمی فہرست میں جگہ بنا پانا ایک سنگین ناکامی ہے، جبکہ ٹاپ 500 میں صرف دو یونیورسٹیوں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نظام کس قدر کھوکھلا ہو چکا ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ لاء اور سوشیالوجی جیسے اہم شعبہ جات مکمل طور پر غائب ہیں، خواتین یونیورسٹیوں کا نام و نشان نہیں، اور بلوچستان جیسے بڑے صوبے کی ایک بھی جامعہ عالمی سطح پر نمائندگی حاصل نہ کر سکی۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایچ ای سی کو چاہیے تھا کہ وہ جامعات سے کارکردگی رپورٹ طلب کرتے، کوالٹی انہانسمنٹ سیلز (QEC) اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ لیتے، اور ان اہم عہدوں پر خالی اسامیوں کو فوری طور پر پر کرنے کے لیے اقدامات کرتے۔ مگر اس کے برعکس، اعلیٰ افسران پروٹوکول اور مراعات کے مزے لوٹنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اور اس کا واضح ثبوت QEC اور ORIC میں بھی ایڈمنسٹریشن کے عہدوں کی طرح اضافی چارج والے افراد کا بیٹھنا ہے۔ اور بہت سی یونیورسٹیاں ایچ ای سی کو ہی دھوکہ دینے میں مصروف ہیں کہ انہوں نے QEC اور ORIC میں فل ٹائم تعیناتیاں کی ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ادھر یونیورسٹی انتظامیہ سوشل میڈیا پر اپنی نام نہاد کامیابیوں کے قصیدے پڑھنے میں مصروف ہے—ٹک ٹاک اور فیس بک پر تعریفی ویڈیوز اور پوسٹس کی بھرمار ہے مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب اصل امتحان آیا، یعنی عالمی رینکنگ، تو سارا نظام دھڑام سے زمین بوس ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جن چند جامعات نے عالمی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے، وہ گزشتہ تین سے چار دہائیوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہیں۔ ان کامیابیوں کا موجودہ انتظامیہ یا نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلرز سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ یہ ادارے پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں اور اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ دوسری جانب، ملک کی بیشتر جامعات ایسی صورتحال کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں داخلوں کے لیے انہیں طلبہ کو راغب کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا پڑیں گے یہاں تک کہ مالی مراعات دینا بھی خارج از امکان نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ چیئرمین ایچ ای سی آخر کب اس زوال کی اصل وجوہات تلاش کریں گے؟ کب اس بات کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے گا کہ کیوں تحقیق کا معیار گر رہا ہے، کیوں اساتذہ اور ریسرچرز کی حوصلہ افزائی نہیں ہو رہی، اور کیوں اہم شعبہ جات عالمی سطح پر مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں؟ کیوں چئیرمین ایچ ای سی بذات خود عالمی رینکنگ میں اتنی بڑی ناکامی کو چھپا رہے ہیں۔ کیوں ان یونیورسٹیوں کا محاسبہ نہیں کیا جا رہا جو رینکنگ میں اپنا نام نہیں بنا سکیں۔ یا کبھی ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں سے یہ پوچھنے کی بھی زحمت کی کہ وہ کیو ایس رینکنگ میں کیوں شامل نہیں۔ اس سے بھی بڑی بات کہ یونیورسٹیاں اپنی ڈگریاں متعلقہ کونسلز سے بھی رجسٹر نہیں کروا رہیں۔ کمپیوٹر کونسل کی ویب سائٹ پر لگا آخری طلباء والدین الرٹ 2024 کا شائع کردہ ہے۔ کیا یہ 15 کونسلیں صرف افسران بھرتی کرنے کے لیے بنائی گئیں یا یہ کونسلز کوئی کام بھی کریں گی اور معیار چیک کریں گی۔ یہ محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے تعلیمی ڈھانچے کے انہدام کی کہانی ہے—اور اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے وقت میں یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔







