ملتان(سٹاف رپورٹر)سود خوری کے حوالے سے بدنام میاں بیوی ندیم سپل اور شازیہ نے اپنے دوسرے ٹاؤٹ خواجہ سلیم کو آگے کر کے نورین ناصر نامی خاتون کو بلیک میل کر کے اس سے لئے گئے چیک خواجہ سلیم کو دے کر مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی تو دوران تفتیش تھانہ شاہ شمس میں خواجہ سلیم اپنا کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق نورین ناصر اور ان کے خاوند ناصر سے ثابت نہ کر سکا جس پر پولیس تھانہ شاہ شمس نے خواجہ سلیم نامی سود خوروں کے ٹاؤٹ کے خلاف رپورٹ لکھ کر عدالت بھجوا دی تو خواجہ سلیم نے ایک پولیس آفیسر کے ذریعے نہ صرف تفتیش تبدیل کرا لی بلکہ اپنی مرضی کے تفتیشی آفیسرکوتفتیش مارک کروا دی ۔خواجہ سلیم جو کہ ندیم سپل کی اہلیہ شازیہ کو اپنے منہ بولی بہن کہتا ہے مگر حقیقت میں یہ ان کے سود خوری کے مکروہ کاروبار کا حصہ دار ہے۔ صرافہ بازار کی ایک گلی میں اس کی دکان محض سود خوری ہی کا اڈا بنی ہوئی ہے جہاں سونے وغیرہ کا کوئی تصور ہی نہیں۔ چند انگوٹھیاںرکھ کر سونا گروی رکھنے کیلئےآنے والی خواتین کو لوٹتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ندیم سپل کے خلاف تھانہ مخدوم رشید میں بھی دو سال قبل 578 نمبر ایف آئی آر درج ہو چکی ہے جس میں موٹر سائیکلیں قسطوں پر دیکھ کر پوری پیمنٹ لینے کے بعد بھی سود کیلئے کاغذات دینے سے ندیم سپل کے انکاری ہونے پر کارروائی کی گئی تھی۔ سودخور ندیم سپل

سود خور ندیم سپل اور شازیہ کے ٹائوٹ کامران اورخواجہ سلیم سے رابطے ثابت ،خواجہ اسلم سہولتکار

ملتان ( سٹاف رپورٹر) سود خور میاں بیوی ندیم سپل اور شازیہ کے ٹاؤٹ کامران سنیارے اور سود خور خواجہ سلیم سے درجنوں فون کالز کے رابطے سامنے آگئے جبکہ سود خوروں کے چنگل میں پھنس کر جیل کی ہوا کھانے والی ملتان کی مظلوم ماں شازیہ نورین اور اس کے شوہر کا کوئی بھی رابطہ خواجہ سلیم اور کامران سنیارے سے نہ ہو سکا۔ روزنامہ قوم کو فراہم کئے جانے والے موبائل ڈیٹا سےخواجہ سلیم کا شازیہ سے بھی رابطہ ثابت ہوا اور یہ بات عیاں ہو گئی کہ یہی وہ نیٹ ورک ہے جو عورتوں کو سود خوری میں پھنسا کر ان کے گھر تباہ کرتا ہے اور صرافہ بازار کے تاجر رہنما خواجہ اسلم بھی سود خوروں کا سہولت کار ہے ۔خواجہ اسلم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب میں چوری شدہ سونا خریدنے کے حوالے سے یہ بہت بڑا مافیا بن چکا ہے اور ملتان پولیس سے گہرے مراسم کی وجہ سے کوئی بھی اس پر ہاتھ نہیں ڈالتا جبکہ خواجہ اسلم مال مسروقہ کے طور پر قبضہ شدہ سونے کو بھی نقلی سونے میں تبدیل کر کے چند با اعتماد پولیس اہلکاروں کو دیتا ہے اور برآمد شدہ سونا جعلی و ملاوٹ شدہ ثابت ہونے پر ڈاکوؤں کو رہائی مل جاتی ہے بتایا گیا ہے کہ سود خورنی شازیہ اپنے والدہ کے نمبر پر تمام رابطے کرتی ہے اور تھانہ شاہ شمس نے جب ایک مقدمہ میں سود خور خواجہ سلیم کو جھوٹا قرار دے کر رپورٹ لکھ دی تو خواجہ سلیم نے تفتیش تبدیل کرانے کیلئےدرخواست دے دی جسے ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا محمد اشرف نے ملتان میں تعینات سب سے ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل اے ایس پی کینٹ خالد خان چانڈیو کے حوالے کردی ۔یاد رہے کہ نورین ناصر کے خلاف سود خوروں کے تمام مقدمات کی نگرانی از خود ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان کررہے ہیں اور انہوں نے روزنامہ قوم کے توجہ دلانے پر اپنے سٹاف سے کہہ دیا ہے کہ انہیں اب اس حوالے سے اپ ڈیٹ رکھیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں