ملتان ( سٹاف رپورٹر) سود خور میاں بیوی ندیم سپل اور شازیہ کے ٹاؤٹ کامران سنیارے اور سود خور خواجہ سلیم سے درجنوں فون کالز کے رابطے سامنے آگئے جبکہ سود خوروں کے چنگل میں پھنس کر جیل کی ہوا کھانے والی ملتان کی مظلوم ماں شازیہ نورین اور اس کے شوہر کا کوئی بھی رابطہ خواجہ سلیم اور کامران سنیارے سے نہ ہو سکا۔ روزنامہ قوم کو فراہم کئے جانے والے موبائل ڈیٹا سےخواجہ سلیم کا شازیہ سے بھی رابطہ ثابت ہوا اور یہ بات عیاں ہو گئی کہ یہی وہ نیٹ ورک ہے جو عورتوں کو سود خوری میں پھنسا کر ان کے گھر تباہ کرتا ہے اور صرافہ بازار کے تاجر رہنما خواجہ اسلم بھی سود خوروں کا سہولت کار ہے ۔خواجہ اسلم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب میں چوری شدہ سونا خریدنے کے حوالے سے یہ بہت بڑا مافیا بن چکا ہے اور ملتان پولیس سے گہرے مراسم کی وجہ سے کوئی بھی اس پر ہاتھ نہیں ڈالتا جبکہ خواجہ اسلم مال مسروقہ کے طور پر قبضہ شدہ سونے کو بھی نقلی سونے میں تبدیل کر کے چند با اعتماد پولیس اہلکاروں کو دیتا ہے اور برآمد شدہ سونا جعلی و ملاوٹ شدہ ثابت ہونے پر ڈاکوؤں کو رہائی مل جاتی ہے بتایا گیا ہے کہ سود خورنی شازیہ اپنے والدہ کے نمبر پر تمام رابطے کرتی ہے اور تھانہ شاہ شمس نے جب ایک مقدمہ میں سود خور خواجہ سلیم کو جھوٹا قرار دے کر رپورٹ لکھ دی تو خواجہ سلیم نے تفتیش تبدیل کرانے کیلئےدرخواست دے دی جسے ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا محمد اشرف نے ملتان میں تعینات سب سے ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل اے ایس پی کینٹ خالد خان چانڈیو کے حوالے کردی ۔یاد رہے کہ نورین ناصر کے خلاف سود خوروں کے تمام مقدمات کی نگرانی از خود ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان کررہے ہیں اور انہوں نے روزنامہ قوم کے توجہ دلانے پر اپنے سٹاف سے کہہ دیا ہے کہ انہیں اب اس حوالے سے اپ ڈیٹ رکھیں ۔






