سوئی ناردرن اور ٹی ایم اے کی جنگ، زکریا ٹاؤن کے مکین چار ماہ سے تنگ، سڑکیں کھنڈر

ملتان (قلب حسن سے)زکریا ٹاؤن کے مکین اور تاجر برادری گزشتہ چار ماہ سے سوئی گیس اور ٹی ایم اے کے درمیان غفلت اور باہمی اختیارات کی جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔چار ماہ قبل سوئی گیس کی پائپ لائن بچھانے کے لیے سڑکیں ادھیڑ دی گئیں مگر تاحال انہیں بحال یا پُر کرنے کا کام شروع نہیں کیا گیا۔جگہ جگہ کھڈے، ٹوٹی سڑکیں اور مٹی کے ڈھیر اب شہریوں کے لیے عذابِ روزگار بن چکے ہیں۔اہلِ علاقہ کے مطابق ہر روز درجنوں موٹر سائیکل سوار پھسل کر زخمی ہو جاتے ہیں، گردوغبار سے کاروباری زندگی مفلوج ہو چکی ہے اور بارش کے بعد گلیاں کیچڑ سے تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔تاجروں نے شکایت کی کہ گاہکوں کی آمد گھٹ چکی ہے، دکانوں کے سامنے کھڑے ہونا تک مشکل ہو گیا ہے۔ایک بزرگ شہری نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ صبح کے وقت نمازِ فجر کے لیے جاتے ہوئے بھی گلیوں میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کیچڑ کے باعث چلنا محال ہو جاتا ہے۔ کئی مرتبہ نمازی پھسل کر زخمی ہو چکے ہیں، مگر کوئی پرسانِ حال نہیں۔مقامی شہری محمد یاسر نے بتایا،“چار ماہ سے ہم مٹی اور پتھروں کے درمیان رہ رہے ہیں۔ بچے سکول جا تےہوئے پھسل جاتے ہیں، رکشے سڑکوں کے گڑھوں میں پھنس جاتے ہیں۔ سوئی گیس والوں سے پوچھو تو وہ ٹی ایم اے کا نام لیتے ہیں، ٹی ایم اے سے بات کرو تو وہ فائلوں کی بات کر کے ٹال دیتے ہیں۔”ذرائع کے مطابق سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ایم ڈی اے کو باقاعدہ ادائیگی کر دی گئی ہے۔جبکہ ٹی ایم اے کے متعلقہ افسران کا مؤقف ہے کہ کام جلد شروع کیا جائے گا، تاہم تکنیکی مراحل زیرِ کار ہیں۔دونوں اداروں کے درمیان یہ ’’کاغذی خط و کتابت‘‘ عوام کے لیے عملاً اذیت ناک انتظار میں بدل چکی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ انتظامی نااہلی اور محکماتی بے حسی کی واضح مثال ہے۔جب ایک منصوبہ مکمل ہو جائے تو سڑک کی بحالی اسی وقت شروع ہونی چاہیے، مگر یہاں عوام کی سہولت کسی کے ایجنڈے میں نظر نہیں آتی۔اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر ملتان اور چیف انجینئر ٹی ایم اے سے مطالبہ کیا ہے کہ زکریا ٹاؤن کی تباہ حال سڑکوں کی فوری بحالی کا حکم دیا جائے اور ذمہ دار محکموں کے خلاف کارروائی کی جائے،تاکہ شہری مزید مشکلات سے نجات پا سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں