سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو چیلنجز سے نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پچھلے سیلاب کے بعد سندھ میں 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کی گئی، جو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں اور دریائی صورتحال نے پنجاب میں بڑی تباہ کاریاں کی ہیں اور سندھ حکومت مکمل طور پر پنجاب کے ساتھ کھڑی ہے۔ جو بھی مدد درکار ہوگی، وہ فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے جام خان شورو کو فیلڈ کے دوروں پر مامور کیا ہے جبکہ دریائی صورتحال کی ہر سطح پر مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ کچے کے علاقوں میں رہنے والے مکینوں کے لیے ٹینٹ، جیری کینز اور مچھر دانی سمیت تمام ضروری سہولیات کا بندوبست کرلیا گیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عوام گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں، تاہم اگر بارش سیلاب کے ساتھ ہوئی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ نے مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کے ساتھ وزراء اور منتخب نمائندوں کو اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2010 کے سیلاب میں بھی سندھ میں بڑی تباہی ہوئی تھی، اس وقت سندھ حکومت نے بھرپور انداز میں حالات کا مقابلہ کیا تھا۔ اسی طرح حالیہ صورتحال میں بھی حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تین صوبائی اسمبلیاں ڈیمز پر قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔ یہ قدرتی آفات عوام کے ساتھ مل کر ہی قابو کی جاسکتی ہیں۔ کراچی میں ٹوٹی سڑکوں کی مرمت کا کام بارشوں کے بعد تیز کیا جائے گا، جبکہ کچے کے علاقوں کے متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
انہوں نے جماعت اسلامی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ عملی طور پر کچھ نہیں کرتے، صرف الزامات لگانے میں مصروف ہیں۔
