سمگلنگ نیٹ ورک پی آئی اے ویجی لینس کمیٹی کے ہاتھوں بے نقاب، کلکٹر ایئر پورٹ نے ساتھی بچا لئے

ملتان (سٹاف رپورٹر) اعلیٰ کسٹم افسران کی سرپرستی اور آشیرباد سے پنجاب بھر کی ایئرپورٹس پر جاری سمگلنگ کے اربوں روپے کے غیر قانونی کاروبار کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے روزنامہ قوم کی رپورٹنگ درست ثابت ہوئی اور موبائل سمگلنگ کی ایک اور بڑی کارروائی پی آئی اے افسران کی نشاندہی پر پکڑی گئی جو کہ ملتان ایئرپورٹ پر تعینات احمدظہیر اور ان کا عملہ کلیئر کر چکے تھے۔ اس طرح کلکٹر ایئرپورٹس لاہور کی سرپرستی میں چلنے والا سمگلنگ کا نیٹ ورک پی آئی اے کی ویجی لینس کمیٹی نے بے نقاب کر دیا ،پی آئی اے کے عملے سے تین کروڑ سے زائد کے موبائل فون برامد کر لیے گئے کلیکٹر کسٹم ایئرپورٹ لاہور طیبہ معید کیانی نے اپنے لیے کام کرنے والی دونوں ایئر ہوسٹس کو پروٹوکول کے ساتھ ایئرپورٹ کی حدود سے جانے دیا مگر اس کے باوجود پی آئی اے کی ویجیلینس کمیٹی کے بے نقاب کرنے پر ان سے موبائل فونز برآمد کر لیے گئے۔ تفصیل کے مطابق کلکٹر ایئرپورٹس لاہور طیبہ معید کیانی جن کے خلاف پہلے ہی ایف بی آر میں شکایات موصول ہو چکی ہیں کہ یہ ایئر لائن عملے کے ساتھ مل کر سمگلنگ کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک گزشتہ کئی ماہ سے چلا رہی ہے جس سے حکومت پاکستان کو ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ روز بھی دبئی سے آنے والی پرواز سے تین کروڑ سے زائدمالیت کے امپورٹڈ فون سمگلنگ کرنے کی کوشش کی گئی جس میں کافی حد تک کامیابی بھی ہو گئی تھی فلائٹس سٹیورڈ عمران اور خالد خان 54 فون لے کر ایئرپورٹ کی حدود سے باہر نکل گئے، اس دوران پی آئی اے کی ویجی لینس کمیٹی کی انچارج میڈم فریحہ ملتان ایئرپورٹ پہنچ گئیں انہوں نے ملتان ایئرپورٹ پر آ کر کسٹم حکام اور دیگر ایجنسیوں کو آگاہ کیا جس پر پیچھے رہ جانے والی دو ایئر ہوسٹس نشاط اور صدف ناصر کا سامان چیک کیا تو اس میں 24 آئی فون تھے بعد میں ان کی تحریری انفارمیشن پر کسٹم ٹیم نے مجبور ہو کر ملتان کے ایک مقامی ہوٹل سے پی آئی اے کے تین اہلکار جو موبائل فون سمیت جا چکے تھے ان کو پکڑا اور ان کے قبضے سے 54 موبائل فونز برآمد کر لیے گئے، ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا کہ فلائٹ آنے سے قبل ایڈیشنل کلکٹر حنا گل نے سپریٹنڈنٹ ملتان ایئرپورٹ کو فون کر کے کہا کہ پی آئی اے کا عملہ جو سامان لا رہا ہے ان کو نہ روکا جائے جس پر بابر رحمان نے پی آئی اے کے تینوں اہلکاروں کو جانے دیا اس میں ان کا ساتھ انسپکٹر اعجاز بٹ نے دیا جس کو لاہور ایئرپورٹ سے سمگلنگ کے الزام میں نکالا گیا تھا مگر انہیں ملتان لگا دیا گیا۔ اعجاز بٹ کی ڈیوٹی لاہور ایئرپورٹ ٹریفک میں نہ ہونے کے باوجود وہ ایئرپورٹ پر اس فلائٹ میں موجود تھا جبکہ انسپکٹر ارسلان میرانی اور یو ڈی سی حیدر بھی اس سمگلنگ میں ملوث ہیں ،حیدر یو ڈی سی کا کام سمگلنگ کے بعد سمگلروں سے پیسے وصول کرنا ہے لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ پی آئی اے کی ویجیلینس کمیٹی کی وجہ سے تین کروڑ سے زائد کےموبائل فون تو پکڑ لیے گئے لیکن کلکٹر ایئرپورٹ طیبہ کیانی نے دونوں ایئرہوسٹسز صدف اور نشاط جو کلیکٹر لاہور طیبہ قیانی کی سمگلنگ کی کاریگر ساتھی بتائی جاتی ہیں کو آسانی سے جانے دیا ،بعد میں جب اے ایس ایف کام نے نمبر چیک کیے تو ثابت ہو گیا کہ کسٹم ٹیم نے سپرنٹنڈنٹ بابر رحمان اور انسپکٹر ارسلان میرانی اور اعجاز بٹ نے جان بوجھ کر سامان کلیئر کروا دیا ،ملتان ایئرپورٹ جو لاہور کسٹم کلیکٹر طیبہ کیانی اور ڈپٹی کلیکٹر ظہیر احمد ظہیر کے آنے کے بعد مسلسل سمگلنگ کی آماجگاہ بنا ہوا ہے چیئرمین ایف بی آر ممبر کسٹم کے لیے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں