سموگ:پنجاب میں جزوی لاک ڈائون،دفاترحاضری نصف،تعلیمی ادارےبند،ملتان میںصورتحال سنگین

سموگ:پنجاب میں جزوی لاک ڈائون،دفاترحاضری نصف،تعلیمی ادارےبند،ملتان میںصورتحال سنگین

لاہور،گوجرانوالہ،گجرات،فیصل آباد،مدینۃ الاولیا سمیت مختلف شہروں میں ہائرسیکنڈری تک سکولزآج سے17نومبرتک بند،ماسک لازم قرار،مکمل لاک ڈائون کی وارننگ

ملتان،لاہور(ایڈیٹررپورٹنگ،بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں)سموگ کی بدترین صورتحال کے باعث پنجاب میں جزوی لاک ڈائون لگادیاگیا،سرکاری ونجی دفاترمیںحاضری نصف کرکے آدھےعملے کوورک فرام ہوم کی ہدایت کردی گئی،تعلیمی ادارےبند،ملتان میںصورتحال سنگین ہوگئی۔آلودگی میں ملک بھرمیںدوسرےنمبرپرآگیا۔پنجاب حکومت نے پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک سکولز بند کرنے کا اعلان کردیا جبکہ ماسک کا استعمال لازم قرار دے دیا گیا۔سموگ کے پیش نظر پنجاب کے مختلف اضلاع میں 17 نومبر تک تعلیمی ادارے بند کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔ڈی جی ماحولیات نے تعلیمی اداروں کی بندش کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور، شیخوپورہ، قصور، ننکانہ صاحب میں نجی و سرکاری تعلیمی ادارے 12 ویں جماعت اور کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے تحت اے لیول تک بند رہیں گے۔نوٹی فکیشن کے مطابق گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد میں بھی سکولز بند رہیں گے، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، ملتان میں بھی سکول بند رہیں گے، ان اضلاع میں مذکورہ تمام تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز پر منتقل ہوں گے، سکولوں کی بندش کے فیصلے کا اطلاق 17 نومبر تک ہوگا۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہریوں نے ماسک نہ پہنے اور سموگ سے متعلق دیگر ہدایات پر عمل نہ کیا تو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے۔صوبائی حکومت کے فیصلے کےمطابق
پنجاب میں بڑھتی سموگ کی وجہ سے سرکاری و نجی دفاتر کا نصف عملہ ورک فرام ہوم کرے گا جب کہ کئی شہروں میں سکول بھی بند کردیئے گئے ہیں۔صوبے میں سموگ اورفضائی آلودگی میں اضافے کی وجہ سے لاہور، گوجرانوالہ ،فیصل آباد اور ملتان میں ہائرسکینڈری سکول 17 نومبر تک بند کردیئے گئے۔ اسی طرح سرکاری اورنجی دفاتر کا 50 فیصد عملہ ورک فرام ہوم کرے گا جب کہ سرکاری میٹنگز بھی آن لائن ہوں گی۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے سموگ کی شرح میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے متاثرہ دیگر اضلاع میں ہائرسکینڈری سطح تک کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے 17 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا تعلیمی ادارے بچوں کے لیے آن لائن اسٹڈی کا انتظام کریں گے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ فصلوں کی باقیاتِ جلانے سے سموگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پلاسٹک بیگ پر پابندی ہے مگر خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ پرائمری سطح تک بچوں کو سکولوں میں چھٹیاں دیں لیکن والدین بچوں کو لے کر شاپنگ مالزاور تفریح گاہوں میں جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے ماسک کا استعمال لازمی کردیا گیاہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ بھارتی ریاست راجستھان اور دیگر اضلاع سے آنے والی ہواؤں نے ملتان اور گوجرانوالہ کو متاثر کیا ہے۔ لاہور میں آج ایئرکوالٹی انڈکس ایک ہزار سے اوپر ریکارڈ کیا گیا، آئندہ 10 روز تک سموگ کی شدت رہے گی۔سینئر وزیر نے کہا کہ سرکاری اورنجی دفاتر کا 50 فیصد عملہ ورک فرام ہوم کریگا۔ تمام سرکاری میٹنگز اب زوم پر ہوں گی۔ سموگ کے تدارک کے لیے تمام محکموں کو اہداف دہیے دیے گئے ہیں۔ ادارہ تحفظ ماحولیات کے آفس میں سموگ وار روم قائم کیا گیا ہے جہاں فضائی آلودگی کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔دوسر ی جانب اولیا کے شہر ملتان میں بھی سموگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس 706 پوائنٹس تک پہنچ گیا ۔پاکستان کے فضائی آلودہ ترین شہروں میں ملتان گزشتہ روز دوسرے نمبر پر رہا، شہر کا ایئر کوالٹی انڈکس خطرناک حد تک آلودہ ہونے سے اے کیو آئی 706 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث شہریوں کو سموگ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ادھر بھارت سے آنیوالی سموگ آلود ہواؤں سے لاہور شدید متاثر ہو کر رہ گیا، گزشتہ روز بھی آلودہ ترین شہروں میں پہلا نمبر برقرار ہے۔شہر کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس995 تک جا پہنچا ۔دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی338 اے کیو آئی کے ساتھ دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر ہے۔دوسری جانب ملتان اورلاہور میں سموگ کے باعث آنکھوں اور گلے کے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، ایک ماہ میں لاہورمیں ایک لاکھ سے زائد شہری متاثر ہوئے ہیں، سموگ کے پیش نظر محکمہ ماحولیات نےلاہورمیں گرین لاک ڈاؤن بڑھانے پر غور شروع کر دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں