سلمی جبیں کیس: سہولت کاری کام کر گئی، ملزموں کی ضمانتیں، خدشات درست ثابت

بہاولپور (کرائم سیل ) والد، چچا اور بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی سلمیٰ جبیں قتل کیس میں روزنامہ قوم کی جانب سے 17 دسمبر کو شائع ہونیوالی خبرجس میں پولیس کی مبینہ سہولت کاری سے ملزمان کی عبوری ضمانتیں کرائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھاسو فیصد درست ثابت ہو گئی کیونکہ مرکزی ملزم طالب حسین اور اس کے بھائی مختیار حسین کی 24 دسمبر تک عبوری ضمانتوں کی تصدیق خود امیر بی بی نے روزنامہ قوم سے گفتگو میں کرتے ہوئے کی، امیر بی بی کے مطابق ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ اور ایس ایچ او ڈیرہ نواب صاحب نے انہیں بلا کر طالب حسین اور مختیار حسین کی 24 دسمبر تک عبوری ضمانتوں کے بارے میں آگاہ کیا تاہم ایس ایچ او ڈیرہ نواب اعتزاز احسن نے عبوری ضمانتوں کی تصدیق سے انکار کیا۔ تفصیلات کے مطابق روزنامہ قوم کی جانب سے احمد پور شرقیہ کے نواحی موضع سکھیل میں ہونے والے سلمیٰ جبیں کے اندوہناک قتل کو اجاگر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور #JusticeForSalmaJabeen ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔پولیس کی ناقص تفتیش اور مبینہ سہولت کاری پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔طلبہ، سماجی کارکنوں، وکلا ، سول سوسائٹی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے انصاف کے لیے بھرپور آواز بلند کی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کی ایک تعلیم یافتہ، باہمت اور پڑھی لکھی بیٹی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور المیہ یہ ہے کہ مقتولہ کا قاتل اس کا اپنا باپ بتایا جا رہا ہے، اس کے باوجود پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے ملزمان کو قبل از گرفتاری ضمانتیں کروانے کا موقع فراہم کرنا نظامِ انصاف کی ناکامی اور سہولت کاری کا واضح ثبوت ہے، سوشل میڈیا صارفین کے مطابق مقامی پولیس افسران کا ملزمان کو گرفتار نہ کرسکنا ملزمان کو بچانے کے مترادف ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آج سلمیٰ جبیں کو انصاف نہ ملا تو کل کوئی اور بیٹی بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتی ہے، طلباء وطالبات ،وکلاء سول سوسائٹی اور مہم میں شریک افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کے لیے مقامی پولیس کے بجائے سی سی ڈی ٹاسک دیا جائے ، ملزمان کی ضمانت کی فوری منسوخی کے لیے مضبوط بنیادوں پر عملی اور ٹھوس کوششیں کی جائیں اور ملوث پولیس افسران کے کردار کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے، عوام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ جنوبی پنجاب کی بیٹیاں رحم نہیں بلکہ انصاف اور تحفظ چاہتی ہیں، کیونکہ خاموشی بھی جرم ہے اور سلمیٰ جبیں کے لیے انصاف ناگزیر ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں