سلمیٰ جبیں کیس: سیاسی پہلوان، تھرڈ پارٹی اور مک مکا گروپ ملزم کو بچانے میں ناکام

بہاولپور( کرائم سیل ) تھانہ ڈیرہ نواب کی حدود میں شادی سے ایک روز قبل باپ، بھائیوں اور چچا کے ہاتھوں قتل ہونے والی سلمیٰ جبیں کے کیس میں احمد پور شرقیہ کے طاقتور سیاسی پہلوان رافی میاں کی ڈرامائی انٹری بھی رائیگاں،سیاسی سرپرستی کے باوجود ملزم مختار حسین پولیس کی تفتیش میں بے گناہ ہونے کیلئے سر توڑ کوششوں کے باوجود ناکام،سب کچھ داؤ پر لگانے کا انکشاف۔تھرڈ پارٹی اور مک مکا گروپ نے آپسی سنگت سے راتوں رات لاکھوں کھرے کر لیے مگر ملزم مختار و دیگر تاحال حواس باختہ، بزرگ خاتون امیرہ مائی و کیس سے جڑے دیگر افراد کی’’قوم‘‘ کو دعائیں، روزنامہ قوم میں 16 جنوری کو شائع ہونے والی خبر کہ علاقے کے سیاسی افراد اور ان کے فرنٹ مین مبینہ طور پر مقتولہ کے چچا مختار حسین کو بے گناہ ثابت کرانے کے لیے ملزمان سے رقوم وصول کر کے پولیس پر دباؤ ڈال رہے ہیں، سچ ثابت ہو گئی۔ احمد پور شرقیہ میں ایک سیاسی شخصیت رافی میاں کی جانب سے مقتولہ سلمیٰ جبیں کو 26 برس تک اسے پالنے پوسنے اور تعلیم دلوانے والی امیرہ مائی کو پہلے پیسوں کا لالچ اور بعد ازاں دھمکیاں دے کر مختار حسین کو مقدمے سے نکلوانے کی کوشش کی گئی تاہم امیرہ مائی نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کے کمپرومائز اور ملزمان کو معافی نہ دینے اور کیس کی پیروی کا پیغام طاقتور حلقوں تک پہنچایا تو ناکامی کے بعد سیاسی عناصر کھل کر میدان میں آ گئے۔ ہفتے کے روز ایس پی آر آئی بی کے روبرو پیشی کے دوران مقتولہ کے والد طالب حسین کو ظالم اور اس کے بھائیوں کو قاتل قرار دینے جبکہ مختار حسین کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا مگر بزرگ خاتون امیرہ مائی نے ٹھوس دلائل اور مضبوط مؤقف اپنا کر تمام کوششوں کو ناکام بنا دیااور پولیس افسران کے روبرو یہ چیز ثابت کی کہ مختیار حسین موقع پر موجود تھا اور قتل کرنے میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔ گواہان نے بھی تصدیق کی جس پر اطلاعات کے مطابق ایس پی آر آئی بی نے بھی مختار حسین کو گنہگار قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایس پی انویسٹی گیشن جمشید علی شاہ کی تفتیش میں بھی دونوں فریقین کے بیانات کے بعد مختار حسین کو قصوروار قرار دیا جا چکا تھا اور ایس پی آر آئی بی کے سامنے بھی وہی مؤقف درست ثابت ہوا، جس سے روزنامہ قوم کی انویسٹی گیٹو رپورٹنگ ایک بار پھر سچ ثابت ہو گئی۔ دوسری جانب گزشتہ عبوری ضمانت کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے تفتیش کے لیے ایس پی آر آئی بی کے سامنے پیش ہونے کی مہلت مانگی تھی، جس پر معزز عدالت نے 3 فروری کی تاریخ مقرر کی، تاہم تازہ صورتحال کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ عبوری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں مختار حسین کی گرفتاری ناگزیر ہے، ڈی پی او بہاولپور کی دلچسپی کی وجہ سے تفتیش میرٹ پر ہونے اور ملزمان کے گرد شکنجہ کستا دیکھ کر ملزمان فریق اب عدالت کے ذریعے اپنے بچوں سے درخواستیں دلوا کر مقدمہ کی مدعیت لینے کی کوشش کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں جبکہ امیرہ بی بی نے بہاولپور کے ماہر قانون دان کی توسط سے خود مدعی بننے کا عندیہ بھی دیا ہے جبکہ علاقائی ذرائع کے مطابق 3 فروری سے قبل ہی مختار حسین کے فرار ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں