بہاولپور(کرائم سیل)مریم بیٹی مجھے انصاف چا ہئے،غیرت کے نام پر باپ، بھائیوں اور چچا کے ہاتھوں قتل ہونے والی سلمیٰ جبیں کی پرورش کرنے والی اور قانونی سرپرست امیر اختر مائی نے ایک بار پھر بہاولپور پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب، آر پی او بہاولپور، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فورمز پر آن لائن درخواستیں دائر کر دیں، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 10 دسمبر 2025 کو اپنی طے شدہ شادی سے ایک روز قبل 30 سالہ سلمیٰ جبیں کو اس کے حقیقی والد، بھائیوں اور چچا نے بے دردی سے قتل کیا جبکہ وہ گزشتہ 27 برسوں سے مقتولہ کی قانونی سرپرست اور بطور جائز وارث اس مقدمے میں مناسب شکایت کنندہ ہیں، تاہم ایف آئی آر نمبر 758/2025 درج تو کی گئی مگر اس میں اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا، انہیں شکایت کنندہ کا درجہ نہیں دیا گیا، پولیس نے مدعیت اپنے پاس رکھ کر مفادات کے واضح تصادم کو جنم دیا، ان کے اور دیگر گواہوں کے بیانات شامل نہ کر کے اہم شواہد دبائے گئے، سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کے بعد مبینہ رشوت کے عوض رہا کیا گیا جس سے قانونی کارروائی کو منافع بخش اسکیم میں بدلا گیا، درخواست گزار کو ایک ماہ تک لاعلم رکھا گیا اور جھوٹی یقین دہانیاں دے کر کیس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا، جبکہ سینئر افسران کی جانب سے غیر جانبدارانہ کارروائی نہ ہونے سے ادارہ جاتی جمود اور بے لگامی برقرار رہی، جس پر امیر اختر مائی نے فوری مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر 758/2025 کو دوبارہ کھول کر اس میں قانونی تقاضوں کے مطابق ترمیم کی جائے اور تفتیش کو براہ راست ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ملتان اور آر پی او بہاولپور کی نگرانی میں منتقل کیا جائے تاکہ شفاف اور منصفانہ انصاف یقینی بنایا جا سکے۔







