بہاولپور (کرائم سیل)تھانہ ڈیرہ نواب کی حدود میں شادی سے ایک روز قبل غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی سلمیٰ جبیں کیس میں پولیس کی مبینہ جانبدار، کمزور اور مشکوک تفتیش نے سنگین آئینی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس پر قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی نے سپریم کورٹ آف پاکستان،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔روزنامہ قوم کی 10 جنوری کو شائع ہونے والی خبر میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی تھی کہ پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث مرکزی ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کے امکانات موجود ہیںجو بعد ازاں مقامی عدالت کی جانب سے 17 جنوری تک عبوری ضمانت میں توسیع کے فیصلے سے سو فیصد درست ثابت ہو گیا۔ قانونی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت پولیس کے کمزور تفتیش اور شواہد کے دانستہ طور پر غیر مؤثر رکھنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اندرونی ذرائع کے مطابق مقتولہ کے گرفتار بھائی ذیشان نے پولیس کو یہ بیان دیا جس میں اس نے اپنے والد طالب حسین کو بچانے کے لیے خود مقتولہ کا گلا دبانا تسلیم کیا اور عبوری ضمانت پر موجود چچا مختیار حسین کے متعلق بتایا کہ اس نے مقتولہ کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر پکڑے رکھا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بیان اس انداز میں بیان کئے جارہے ہیں کہ اصل منصوبہ ساز اور مرکزی کرداروں کو بچایا جا سکے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ بعض ٹاؤٹ مبینہ طور پر ملزم مختیار حسین کو تفتیشی ٹیم سے ڈیل کے ذریعے بے گناہ ثابت کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، یہی وجہ ہے کہ اہم عینی شاہدین کو دانستہ طور پر تفتیش سے باہر رکھا گیا۔ مقتولہ کی 25 سے 26 سال تک پرورش کرنے والی امیرہ بی بی (امیر اختر مائی) سے نہ تو بیان لیا گیا اور نہ ہی انہیں تفتیش میں شامل کیا گیا، جو فوجداری قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی)، آرٹیکل 25 (قانون کے سامنے برابری) اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف موجود فوجداری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ہائی پروفائل کیسز میں پولیس خود ملزمان کو تحفظ فراہم کرے تو انصاف کا پورا نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔سنجیدہ حلقوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آزاد جوڈیشل کمیشن یا کسی غیر جانبدار ادارے (جیسے ایف آئی اے یا کسی دیگر ضلع کی پولیس) سے تفتیش کا حکم دیں، ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور مقتولہ سلمیٰ جبیں کے ورثا کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس میں شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو یہ معاملہ نہ صرف انصاف کے قتل کے مترادف ہوگا بلکہ غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین جرم کو عملی طور پر تحفظ دینے کے برابر ہوگا۔
#JusticeForSalma Jabeen







