فلور ملز مالکان اربوں روپے سے4785روپے من سرکاری قیمت والی گندم مجبور کاشتکار سے 3000 سے 3500 روپے میں دھڑا دھڑ خریدنے لگے
پاسکو کا عملہ باردانہ کےاجرا میں کروڑوں روپے ہتھیا رہا ، نچلا عملہ150 والی بوری اس وقت 500 سے 800 روپے تک جاری کر رہا ،کارروائی صفر
سابق دور میں وزیر اعظم شہباز شریف نےسندھ کی لاگو کردہ قیمت کو اپنایا اور اعلیٰ کوالٹی کی وافر گندم کی موجودگی کے باوجودناقص گندم منگوا کر کسان کا معاشی قتل کیا
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) ملک بھر میں سرکاری سطح پر گندم کی خریداری نہ ہونے کی وجہ سے آڑھتیوں اور فلور ملز مالکان اور سٹاکسٹ کی چاندی ہو گئی ہے اور بنکوں سے لمٹ منظور کروا کر فلور ملز مالکان 4785 روپے سرکاری قیمت والی گندم مجبور کاشتکار سے 3000 سے 3200 روپے فی من میں دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں۔ دوسری طرف پاسکو کا عملہ اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا کر باردانہ کے اجرا میں کروڑوں روپے کاشتکار سے ہتھیا رہا ہے جو خالی بوری سال دو سال قبل 100 سے 150 روپے رشوت کے عوض مل جاتی تھی وہی بوری اس وقت 500 سے 800 روپے تک پاسکو کا نچلا عملہ ٹاوٹوں کے ذریعے جاری کر رہا ہے اور پاسکو کے ٹائوٹ دھڑا دھڑ باردانہ فروخت کر رہے ہیں جبکہ پاسکو حکام کو متعدد شکایات بھی موصول ہو چکی ہیں کہ باردانہ فروخت کیا جا رہا ہے مگر پاسکو حکام کی طرف سے کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں ہو رہی۔ 4785 روپے من والی گندم 3200 روپے فی من کے حساب سے کسان کے ہاتھوں سے نکل کر جونہی سٹاکسٹ کے گوداموں میں جائے گی تو اس کا ریٹ سرکاری گندم کے برابر ہو جائے گا اور پھر سے ایک نیا طبقہ کاشتکار کی جیبوں میں جانے والی محنت کے اربوں روپے کو ہضم کر جائے گا۔ پاکستان میں اس طرح ہوتا آیا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت میں اس حد تک بے بس تھے کہ وفاقی سطح کے اجلاس میں یہ طے ہوا کہ گندم کی سرکاری قیمت 2200 روپے فی من کی بجائے 600 روپے اضافے کے بعد 2800 فی من کی جائے مگر سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے برعکس گندم کی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کر دی اور بجائے اس کے کہ اس وقت کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اصولی مؤقف اختیار کرتے مگر وہ دبائو میں آ کر وفاقی سطح پر بھی سندھ کے طے کردہ نرخ یعنی 3900 روپے فی من ہی لاگو کر گئے۔ ملک میں وافر گندم کی موجودگی کے باوجود دنیا کے پانچ مختلف ممالک سے آلودگی ‘ بیکٹیریا اور سنڈیوں سے بے بھری گندم کی 3 کروڑ 61 لاکھ 20 ہزار بوریاں منگوا لی اور پاکستان کے کروڑوں کاشت کاروں کا معاشی مستقبل برباد کر دیا۔







