سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال سمگلنگ کے مال کی “باڑہ مارکیٹ”، کوئٹہ، پشاور سے سپلائی

ملتان (وقائع نگار) پنجاب میں اربوں روپے کی سمگلنگ کا منظم راج قائم ہوگیا۔ کوئٹہ سے فیصل آباد، سرگودھا اور ساہیوال تک کسٹم افسران مبینہ طور پر سہولت کار خفیہ ادارے بھی سمگلنگ کی روک تھام میں ناکام نظر آ رہے ہیں ذرائع کے مطابق سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال میں ماہانہ کروڑوں روپے کے غیر کسٹم پیڈ (سمگلڈ) سامان کی درآمد کا منظم سلسلہ جاری ہے۔ مختلف گڈز اڈوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ذریعے یہ سامان کوئٹہ اور پشاور سے پنجاب کی بڑی منڈیوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ فیصل آباد کی غلہ منڈی اس وقت سمگلڈ سامان کا سب سے بڑا مرکز بن چکی ہے جہاں کوئٹہ اور پشاور کے پٹھان تاجر ماہانہ اربوں روپے کی سمگلنگ کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے کئی تاجر اس نیٹ ورک کے مرکزی کردار ہیں۔ متین خان دودھ، چائنا نمک، ذاکر خان، فیروز خان دودھ اور نور محمد (کوئٹہ) ہر قسم کے سمگلڈ سامان کی سپلائی کر رہے ہیں۔ یہ افراد علی عباس گڈز، کمر گڈز اور مولوی افضال گڈز کے ذریعے سامان منگواتے ہیں۔ اسی طرح ابراہیم خان ڈرائی فروٹ اور مرتضیٰ خان ہر قسم کے نان کسٹم سامان کی سمگلنگ میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔گل خان (سٹار گڈز، کوئٹہ) بھی اسی نیٹ ورک کے ذریعے سمگلنگ کا کام کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان تمام افراد کا تعلق کوئٹہ اور پشاور کے پٹھان تاجروں کے گروپ سے ہے جو فیصل آباد کی منڈی پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق سمگلنگ کا یہ سلسلہ صرف تاجروں تک محدود نہیں بلکہ کسٹم افسران کی مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے جاری ہے۔سرگودھا میں سپرنٹنڈنٹ کسٹم عبداللہ نعیم بھٹی ساہیوال میں سپرنٹنڈنٹ آصف، فیصل آباد میں مختلف کسٹم افسران پر الزام ہے کہ وہ سمگلرز کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر سپرنٹنڈنٹ آصف کو ایف آئی اے نے ریڈ کر کے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا، مگر اب تک انہیں معطل نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کسٹم افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے سمگلنگ کا راج جاری ہے۔فیصل آباد میں سعید کپڑے والا، شیخ مجیب تیل والا، ذوالفقار پنسوتا، طفیل مستری، موٹر مارکیٹ، محسن اڈا، ریلوے مال گودام، ، بلال ڈیزل والا (جملہ روڈ)، نجیب کاکڑ، شکیل ٹائر والے سمیت متعدد افراد مختلف قسم کے سمگلڈ سامان (کپڑا، تیل، مشینری، موٹر پارٹس، ڈیزل وغیرہ) کی سمگلنگ میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد کسٹم افسران کی آشیرباد سے ماہانہ اربوں روپے کا کاروبار چلا رہے ہیں اور حکومت کو کروڑوں روپے کا ریوینیو نقصان پہنچ رہا ہے۔پاکستان کے مختلف علاقوں میں خفیہ ادارے بھی سمگلنگ کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں مگر فیصل آباد ،ساہیوال اور سرگودھا میں خفیہ ادارے بھی سمگلنگ کی روک تھام میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں