تازہ ترین

سرکاری ریکارڈ سے کھلواڑ، غیر قانونی پٹواری 4 مواضع جات پر قابض، دھڑا دھڑ انتقال

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں پٹواری بھرتی کا بدنامِ زمانہ اسکینڈل اب ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں غیر قانونی تقرری کے بعد اب براہِ راست زمینوں کے ریکارڈ میں رد و بدل اور ریاستی ریکارڈ کے ساتھ کھلواڑ کے انکشافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والا پٹواری اسد جہانگیر اس وقت چار موضع جات کے نہ صرف چارج لے چکا ہے بلکہ دھڑا دھڑ اپنی مرضی کے انتقالات درج کر رہا ہے اور رد و بدل کے ذریعے زمینی حقائق کو تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے پورے ملتان میں زمینوں کے ریکارڈ کے بڑے پیمانے پر بگاڑ کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ تصدیق شدہ ریکارڈ کے مطابق اس وقت کی اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان سیمل مشتاق نے قانون کی بالادستی کو مدنظر رکھتے ہوئے بدنام پٹواری ریاض جہانگیر کے بیٹے اسد جہانگیر کو کسی بھی پٹوار حلقے کا چارج دینے سے انکار کیا تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے اس معاملے پر بورڈ آف ریونیو پنجاب سے تحریری رہنمائی بھی طلب کی، جس پر بورڈ آف ریونیو لاہور نے واضح ہدایات جاری کیں کہ ڈپٹی کمشنر ملتان کے احکامات خلافِ قانون ہیں اور ان کے خلاف کمشنر ملتان کے پاس اپیل دائر کی جائے۔ ان ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان نے کمشنر ملتان کے پاس اپیل دائر کی، مگر ذرائع کے مطابق کمشنر آفس کے دفتری اہلکاران نے مبینہ طور پر ملی بھگت کرتے ہوئے اس اپیل کو پیش ہونے سے روک دیا۔ مہینوں تک فائلیں دفتروں میں گردش کرتی رہیں، اور بالآخر کمشنر ملتان نے ڈپٹی کمشنر ملتان کو ہدایت کی کہ وہ اس اپیل پر فیصلہ کریں گے، مگر آج تک نہ کوئی فیصلہ سامنے آیا اور نہ ہی کوئی تحریری حکم، بلکہ فائل ہی غائب کر دی گئی۔ محض “شنید” یہ ہے کہ اپیل زیرِ سماعت ہے، مگر اس پر فیصلہ یا انکوائری رکوا دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پٹواری کی بھرتی کے لیے لازم قانونی تقاضوں، اخباری اشتہار، درخواستیں، تحریری ٹیسٹ، میرٹ لسٹ اور شفاف انٹرویو کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے براہِ راست تقرری کا حکم جاری کیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پنجاب لینڈ ریونیو رولز، سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے واضح فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی بھرتی کی بنیادی ذمہ داری اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر پر عائد ہوتی ہے، جو اس وقت سیکرٹری جنگلات پنجاب کے عہدے پر فائز ہیں۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ بدنام پٹواری ریاض جہانگیر نے ریٹائرمنٹ سے قبل خود کو جان بوجھ کر “ان فِٹ” قرار دلوایا، جعلی و غیر منظور شدہ ادارے کے پٹوار کورس ڈپلومے کے ذریعے اپنے بیٹے کو بھرتی کروایا، اور لاہور ہائی کورٹ کی ایک محض ڈائریکشن کو مکمل عدالتی حکم بنا کر استعمال کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے سی سٹی ملتان سیمل مشتاق نے قانون کے مطابق مزاحمت کی، انہیں اے سی آر خراب کرنے اور کیریئر تباہ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، تاکہ غیر قانونی تقرری کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ آج یہی مبینہ طور پر غیر قانونی پٹواری چار پٹوار سرکلوں پر قابض ہے، منافع بخش موضع جات اس کے حوالے کیے گئے ہیں، چار موضع جات ٹھیکے پر چل رہے ہیں، اور اب انہی موضع جات میں زمینوں کے ریکارڈ کے ساتھ کھلی چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے۔ یہ اسکینڈل اب محض کرپشن نہیں بلکہ زمینوں کے ریکارڈ میں رد و بدل کے ذریعے پورے ملتان میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو اگر نہ روکی گئی تو آنے والے دنوں میں ہزاروں شہریوں کے قانونی حقوق خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر نے اس معاملے پر مؤقف دینے سے گریز کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں