ملتان (سٹاف رپورٹر) حکومت پاکستان نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق تفصیلی اور جامع قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ یہ ہدایات کیبنٹ سیکرٹریٹ
کے تحت کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کی گئی ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ کن افسران کو کن حالات میں سرکاری اسٹاف کار استعمال کرنے کی اجازت ہو گی اور کن صورتوں میں پابندیاں عائد ہوں گی۔ اسٹاف کار ریاستی مہمانوں، غیر ملکی وفود کے ارکان اور پاکستان آنے والی دیگر اہم شخصیات کو فراہم کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں اگر گاڑیاں دستیاب ہوں تو گریڈ 18 اور اس سے زائد کے صوبائی افسران کو بھی ان کے دائرہ اختیار سے باہر سرکاری دورے کی صورت میں درخواست پر گاڑی فراہم کی جا سکتی ہے۔ قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ عمومی طور پر گریڈ 16 اور اس سے زائد افسران صرف سرکاری امور کے لیے، اور وہ بھی گاڑی کی دستیابی کی صورت میں، اسٹاف کار استعمال کر سکیں گے۔ اسی طرح گریڈ 19 اور اس سے زائد افسران کو اپنے سرکاری منصب کی حیثیت سے سفارتی یا سرکاری تقاریب میں شرکت کے لیے، خواہ وہ اوقاتِ کار میں ہوں یا اس کے بعد، اسٹاف کار استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان تعینات گریڈ 18 اور 19 کے ایسے افسران جو ایک شہر میں رہائش رکھتے ہوں اور دوسرے شہر میں کام کرتے ہوں، انہیں پولنگ (مشترکہ) بنیادوں پر دفتر آنے جانے کے لیے اسٹاف کار استعمال کرنے کی سہولت دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ کار مینٹیننس الاؤنس سے دستبردار ہو جائیں۔ اس سہولت کے لیے کم از کم تین افسران کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے، تاہم متعلقہ ڈویژن کے سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکرٹری دو افسران کی صورت میں بھی نرمی برت سکتے ہیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ پولنگ بنیادوں پر فراہم کردہ گاڑی کسی افسر کے ذاتی یا ایگزیکٹو استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہو گی اور گاڑی معمول کے مطابق دفتر میں ڈیوٹی انجام دے گی۔ غیر معمولی حالات میں محکمہ کے انچارج افسر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی افسر کو نجی مقاصد کے لیے گاڑی استعمال کرنے کی اجازت دے سکے، تاہم اس کے لیے مقررہ نرخوں کے مطابق فیس اور ڈرائیور کے اوور ٹائم کی ادائیگی لازم ہو گی۔ نرخوں میں موٹر سائیکل سے لے کر کار، جیپ، وین، اسٹیشن ویگن، کوسٹر اور بھاری گاڑیوں تک مختلف کیٹیگریز شامل ہیں۔ تاہم وہ افسران جو سپلیمنٹری رول 25 کے تحت کنوینس الاؤنس وصول کر رہے ہوں، انہیں اسٹاف کار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مزید برآں وہ افسران جو کار مینٹیننس الاؤنس ترک کر دیں، انہیں سرکاری اور نجی دونوں مقاصد کے لیے ایک ہی اسٹاف کار مفت استعمال کرنے کی اجازت ہو گی، تاہم اس پر چند شرائط لاگو ہوں گی۔ ایسی گاڑی رخصت کے دوران، بالخصوص earned leave یا ریٹائرمنٹ سے قبل کی رخصت میں استعمال نہیں کی جا سکے گی، سوائے اتفاقی یا ایک ماہ تک کی میڈیکل رخصت کے۔ میونسپل حدود سے باہر نجی استعمال مقررہ ادائیگی کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔ اگر گاڑی متعلقہ افسر خود چلائے تو اسے ڈرائیورز کے لیے مقررہ قواعد کی پابندی کرنا ہو گی۔ جن افسران کو تربیت، او ایس ڈی حیثیت یا دیگر عارضی ذمہ داریوں کے دوران ٹرانسپورٹ درکار ہو، ان کے آخری تعیناتی والے محکمہ کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنے موجودہ وسائل سے انہیں سرکاری ٹرانسپورٹ فراہم کرے۔ حکام کے مطابق ان جامع قواعد کا مقصد سرکاری وسائل کے منظم استعمال، شفافیت کے فروغ اور غیر ضروری اخراجات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے تاکہ سرکاری گاڑیوں کا استعمال واضح ضابطوں کے تحت اور قومی مفاد میں ہو۔







