سرکاری رولز کی دھجیاں، سپورٹس آفیسر عدنان نعیم کی بطور وکیل پریکٹس جاری

ملتان (جنرل رپورٹر)دوسرے اداروں کی طرح ملتان سپورٹس ڈیپارٹمنٹ میں بھی سرکاری نظم و ضبط کی دھجیاں بکھیرنے اور ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ایک شہری زبیر خان کی جانب سے سیکرٹری سپورٹس پنجاب کو بھیجی جانے والی درخواست کے مطابق ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر، محمد عدنان نعیم پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق موصوف نہ صرف سرکاری قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ بعض مواقع پر یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ “میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا” — ایک ایسا بیان جو نہ صرف قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے بلکہ سرکاری افسران کے رویے کی سنگینی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد عدنان نعیم ایک طرف سرکاری عہدے پر فائز ہیں تو دوسری جانب بطور وکیل اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو بادی النظر میں مفادات کے تصادم کی واضح مثال ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ وہ 2006 سے بطور وکیل رجسٹرڈ ہیں، 2007 میں بطور تحصیل اسپورٹس آفیسر سرکاری ملازمت اختیار کی، اور 2008 میں ہائی کورٹ بار کا لائسنس بھی حاصل کیا اور تاحال 2026 تک دونوں حیثیتوں کو بیک وقت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ عمل پنجاب گورنمنٹ سرونٹ 1966رول 13 کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی دوسرے پیشے یا کاروبار میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ مزید برآںپنجاب سول سرونٹ ایکٹ کے مطابق ایسی سرگرمیاں جو مفادات کے ٹکراؤ کا سبب بنیں، سختی سے ممنوع ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسر کا ہائی کورٹ رجسٹریشن نمبر 34876 بھی اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ بطور وکیل فعال حیثیت رکھتے ہیں، جو ایک سنگین قانونی اور اخلاقی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا ایک سرکاری افسر قانون کی پاسداری کا ذمہ دار ہوتے ہوئے خود ہی قانون شکنی کا مرتکب ہو سکتا ہے مزید حیران کن پہلو یہ ہے کہ اس مبینہ خلاف ورزی کے باوجود تاحال کسی قسم کی موثر کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے محکمانہ احتساب کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اس معاملے پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک سرکاری افسر ہی قانون کو پامال کرے گا تو عام شہریوں سے قانون کی پاسداری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد کی مبینہ خلاف ورزی تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر سمیت متعلقہ حکام اس سنگین صورتحال پر کب اور کیسے کارروائی کرتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں