سرحد پار دہشتگردی، بھارتی گٹھ جوڑ اور پاکستان کا ناگزیر ردعمل

پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی کے سنگین خطرات سے دوچار ہے، اور اس بار خطرے کا مرکز سرحد پار افغانستان کی سرزمین بن رہی ہے۔ حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ فضائی کارروائیوں نے یہ حقیقت کھول کر سامنے رکھ دی ہے کہ پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اب صرف سفارتی بیانات پر اکتفا کرنا ممکن نہیں رہا۔ جب مسلسل شواہد کے باوجود افغان طالبان حکومت دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرے تو پاکستان کے پاس دفاعی اقدامات کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
حالیہ فضائی آپریشن میں شدت پسندوں کے متعدد اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور کئی دہشتگرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ یہ کارروائی محض فوجی اقدام نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مسلسل خودکش حملوں، سرحدی دراندازی اور تخریبی کارروائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ دہشتگردی کا نیٹ ورک سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے منظم کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی مؤقف یہ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم عملی طور پر دیکھا جائے تو کالعدم تنظیموں کے مراکز، تربیتی کیمپ اور کمانڈ اسٹرکچر افغان علاقوں میں موجود ہونے کے شواہد بارہا سامنے آ چکے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی داؤ پر لگا رہی ہے۔ جب پڑوسی ملک اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہے تو متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔
ادارتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کا یہ اقدام ایک دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، جارحیت نہیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہے، اور جب دہشتگرد تنظیمیں سرحد پار بیٹھ کر پاکستان میں حملے کروائیں تو خاموشی اختیار کرنا دراصل کمزوری کا پیغام دینے کے مترادف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کا صبر لامحدود نہیں اور عوام کی سلامتی سب سے مقدم ہے۔
دہشتگردی کے اس پورے تناظر میں ایک اہم پہلو بھارتی گٹھ جوڑ کا بھی ہے۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف پیش کرتا آیا ہے کہ بعض شدت پسند گروہ بھارتی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی کئی کارروائیوں کے تانے بانے بیرونی معاونت سے ملتے رہے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین ایسے عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے اور اس پر بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کا اثر بھی شامل ہو تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
بھارتی سپانسرڈ دہشتگردی کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنا، اقتصادی منصوبوں کو متاثر کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنا ہے۔ سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں، حساس علاقوں میں حملے اور مذہبی و مسلکی منافرت کو ہوا دینا اسی پراکسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں سرحد پار موجود دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں محض فوجی ضرورت نہیں بلکہ قومی بقا کا تقاضا بن چکی ہیں۔
افغان طالبان حکومت کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ دوحہ معاہدے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت یہ توقع کی جاتی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اگر یہ وعدے عملی اقدامات میں تبدیل نہ ہوں تو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کا اعتماد بھی متاثر ہوگا۔ افغانستان خود بھی امن و استحکام کا خواہاں ہے، اس لیے اسے دہشتگرد گروہوں سے لاتعلقی ثابت کرنے کے لیے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاکستان کی پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ وہ خطے میں جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے۔ تاہم امن کا قیام یکطرفہ خواہش سے ممکن نہیں ہوتا، اس کے لیے تمام فریقین کی سنجیدگی ضروری ہوتی ہے۔ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد ڈھانچوں کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی خطرناک ہوگا، کیونکہ دہشتگردی کی آگ سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔
بین الاقوامی برادری کا کردار بھی اس تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور دہشتگرد تنظیموں کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دے۔ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار دہشتگردی کے تمام نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جائے اور کسی بھی ملک کو پراکسی جنگ کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کا حالیہ اقدام مجبوری کا ردعمل ہے، جارحانہ پالیسی نہیں۔ مسلسل حملوں، قیمتی جانوں کے ضیاع اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی نے پاکستان کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں خاموشی خودکشی کے مترادف ہوتی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ افغان طالبان واضح اقدامات کریں، بھارتی گٹھ جوڑ کے امکانات کو روکا جائے اور خطے کو پراکسی جنگوں کے بجائے تعاون اور استحکام کی طرف لے جایا جائے۔ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔

تمن کھوسہ و تمن بزدار:وسائل کے باوجود محرومی

ضلع ڈیرہ غازیخان کے قبائلی اور نیم پہاڑی علاقے تمن کھوسہ اور تمن بزدار کی صورتحال ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی نمائندگی اور انتخابی کامیابیوں کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ دہائیوں سے یہ علاقے مختلف بااثر سرداروں اور سیاسی شخصیات کے زیرِ اثر رہے، مگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے کوئی پائیدار اور مؤثر حکمت عملی سامنے نہ آ سکی۔ نتیجتاً عوام آج بھی پانی، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
سب سے سنگین مسئلہ صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی ہے۔ کئی دیہات میں آج تک باقاعدہ واٹر سپلائی نظام قائم نہیں ہو سکا، جس کے باعث لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف صحت کے مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ بچوں اور بزرگوں میں مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بھی بنتی ہے۔ اگرچہ نجی سطح پر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی جیسے اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں، تاہم یہ مستقل حل نہیں۔ ریاست اور منتخب نمائندوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ پائیدار واٹر سپلائی اسکیمیں شروع کریں تاکہ عوام کو بنیادی حق میسر آ سکے۔
روزگار کے مواقع کی کمی نے نوجوان نسل کو شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی سطح پر صنعت، ہنر مندی کے مراکز اور چھوٹے کاروباری منصوبوں کی عدم موجودگی کے باعث نوجوان شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف خاندانی و سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ اگر ان علاقوں میں ہنر مندی کے ادارے، چھوٹی صنعتیں اور زراعت سے متعلق منصوبے متعارف کرائے جائیں تو مقامی نوجوان باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
صحت کے شعبے کی زبوں حالی بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ ڈسپنسریوں کا غیر فعال ہونا، ڈاکٹروں اور ادویات کی کمی اور ہنگامی سہولتوں کا فقدان عوام کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے۔ معمولی بیماری کی صورت میں بھی مریضوں کو شہر منتقل کرنا پڑتا ہے جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں اساتذہ کی کمی، خستہ حال عمارتیں اور بنیادی سہولتوں کا فقدان بچوں کے مستقبل کو تاریک بنا رہا ہے۔ اگر تعلیم اور صحت کے اداروں کو فعال نہ کیا گیا تو پسماندگی کا یہ دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
ادارتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو تمن کھوسہ اور تمن بزدار کے مسائل صرف ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات سے حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور مسلسل نگرانی درکار ہے۔ وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود سہولتوں سے محرومی انتظامی اداروں اور سیاسی قیادت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت، منتخب نمائندے اور متعلقہ محکمے مل کر ایک جامع ترقیاتی پلان مرتب کریں، جس میں صاف پانی، صحت، تعلیم اور روزگار کو اولین ترجیح دی جائے۔
اگر ریاست ان علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں سنجیدہ اقدامات کرے تو نہ صرف احساسِ محرومی ختم ہو گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔ بصورت دیگر ترقی کے دعوے محض کاغذی منصوبوں تک محدود رہیں گے اور پسماندگی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اسرائیلی توسیعی سوچ اور عالمی ردعمل

اسرائیل کے توسیعی عزائم کے حق میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ پاکستان سمیت 14 ممالک کا مشترکہ ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی برادری اب یکطرفہ بیانات اور توسیع پسندانہ نظریات کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ معاملہ محض ایک بیان تک محدود نہیں بلکہ خطے کے امن، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے جڑا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسے بیانات اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، کویت، عمان، ترکیہ، سعودی عرب، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین نے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسئلہ فلسطین اب بھی امتِ مسلمہ اور عالمی ضمیر کا زندہ مسئلہ ہے۔ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور مغربی کنارے کے الحاق کی کوششیں پہلے ہی خطے میں عدم استحکام کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ایسے میں اگر عالمی طاقتوں کے نمائندے توسیع پسندانہ نظریات کو تقویت دیں تو یہ عمل جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق مزید مجروح ہوں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس معاملے پر ہمیشہ واضح اور اصولی رہا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت کی ہے بلکہ ہر اس اقدام کی مخالفت کی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی ریاست کو دوسرے علاقوں پر ناجائز تسلط کا جواز فراہم کرے۔ اس مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کی شمولیت دراصل اس کی مستقل خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جو مظلوم اقوام کے حقوق کے تحفظ پر مبنی ہے۔
یہ بھی قابلِ غور امر ہے کہ Organisation of Islamic Cooperation، League of Arab States اور Gulf Cooperation Council کی تائید اس بیان کے خلاف ایک وسیع سفارتی اتحاد کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس اتحاد کا پیغام واضح ہے کہ فلسطینی سرزمین یا دیگر عرب علاقوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، جو عالمی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔
ادارتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ایسے بیانات صرف سفارتی لغزش نہیں بلکہ ایک خطرناک نظریاتی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب طاقتور ممالک کے نمائندے مذہبی حوالوں یا تاریخی دعوؤں کی بنیاد پر جغرافیائی توسیع کا جواز فراہم کریں تو یہ عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال بن جاتی ہے۔ اگر اس طرزِ فکر کو قبول کر لیا جائے تو دنیا کے کئی تنازعات دوبارہ شدت اختیار کر سکتے ہیں اور عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کی توسیعی سوچ پہلے ہی خطے میں مسلسل تنازعات کا سبب رہی ہے۔ غزہ، مغربی کنارے اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں جاری کشیدگی اس کی واضح مثال ہے۔ ایسے میں اس نوعیت کے بیانات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں اور مذاکرات کے امکانات کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشترکہ اعلامیے میں ان بیانات کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سفارتی ماحول کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔
عالمی برادری کے لیے یہ ایک امتحان کی گھڑی ہے۔ اگر بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصولوں کو برقرار رکھنا ہے تو ایسے اشتعال انگیز بیانات کی کھل کر مذمت کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر طاقت کی بنیاد پر سرحدوں کی ازسرِنو تشکیل کا تصور ایک خطرناک عالمی رجحان بن سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان سمیت 14 ممالک کا یہ مشترکہ ردعمل دراصل انصاف، قانون اور امن کے عالمی اصولوں کا دفاع ہے۔ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں سنجیدہ نہ ہوئیں تو خطہ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں