ملتان ( سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے سربراہ الیکٹریکل انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کامران بھٹی بارے دھوکہ دہی کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق 26 جون 2024 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر کامران بھٹی کو فوکل پرسن پراسپیکٹس مقرر کیا گیا جبکہ ڈاکٹر محمد صدیق کو فوکل پرسن ایڈمیشن اور انٹری ٹیسٹ کمیٹی مقرر کیا گیا اور ممبران میں رسول احمد کنٹرولر، حافظ عازب خان سربراہ فزکس، نعیم اسلم سربراہ کمپیوٹر سائنسز اور انجینئر محمد عمر شامل ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر ٹیچر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کامران لیاقت بھٹی اور ڈاکٹر نعیم اسلم نے ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کے ساتھ مل کر ایک مافیا بنایا ہوا تھا جبکہ یہ دونوں افراد خصوصی طور پر کالرو کی نظروں کا تارا رہے۔ ٹیچرز کے مطابق ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی اور ڈاکٹر نعیم اسلم نے آج تک کسی دوسرے ٹیچر کو کمیٹی میں شامل نہ ہونے دیا اور اگر شامل بھی کیا تو ان کو انٹری ٹیسٹ کے منظور کروائے گئے بونس سے محروم رکھا گیا۔ حالیہ سال میں فزکس، کیمسٹری، اینوائرمینٹل ساءئنسز، کریمنالوجی میں ایڈمیشن نہ ہونے کے برابر رہے، میتھ ڈیپارٹمنٹ کو ویسے ہی بند کر دیا گیا۔ لاء ڈیپارٹمنٹ کی اجازت نہ مل سکی۔ پٹرولیم ڈیپارٹمنٹ بھی زوال کا شکار رہا۔ الیکٹریکل اور کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹس میں بھی ایڈمیشن مطلوبہ تعداد سے کم رہے مگر چپکے چپکے ایڈمیشن بونس ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی اور ڈاکٹر نعیم اسلم نے آپس میں تقسیم کر لیا جو کہ مبینہ طور پر سالانہ 2 بونس کے برابر منظور کروا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ کامران لیاقت بھٹی فوکل پرسن پراسپیکٹس ہیں اور ایڈمیشن اور انٹری ٹیسٹ کمیٹی میں شامل ہی نہ ہیں۔ یہ وہی کامران لیاقت بھٹی ہیں جن کی ہر ڈگری پر اعتراضات سامنے آ چکے ہیں اور ڈاکٹر اختر کالرو نے برطرف ہوتے ہی وی سی کا غیر قانونی چارج ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی ہی کو عطا کیا تھا تاہم دو ہی دن بعد وہ چارج واپس لے کر ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی کو اپنی فرنٹ فورس اور ٹیچرز یونین کا صدر بنایا۔ یاد رہے کہ جب 2017 میں صدر پاکستان نے اختر کالرو کو برطرف کیا تو یہ وہی نعیم اسلم تھے جنہوں نے وفاقی وزارت، این ایف سی ہیڈ آفس کے افسران اور صدر پاکستان کے ڈاکٹر اختر کالرو کو ہٹانے کے خلاف قرار داد پیش کی تھی اور ڈاکٹر اختر کالرو کو اپنی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا تھا۔ لاء ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ کو ختم کرکے جو بلڈنگ کمیٹی بنائی گئی اس میں بھی ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی نے حکم کی تعمیل کرنے کی بجائے وہ کمیٹی چھوڑ دی۔ ایک سینئرکیمیکل ٹیچر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمپیوٹر سائنس کے سربراہ ڈاکٹر نعیم اسلم بلڈنگ کو کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے کمیٹی میں شامل ایک سینئر ٹیچر سے مبینہ طور پر بدتمیزی بھی کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر نعیم اسلم نے 1995 میں لاہور بورڈ سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں 637/1100 نمبرز لے کر پاس کیا پھر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے بی کام 67٪ نمبروں سے پاس کیا بعد میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد سے ایم ایس کمپیوٹر سائنس 2008 میں پاس کیا اور 14 مارچ 2016 کو یونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسز لاہور سے بائیو انفارمیٹکس میں پروٹین سٹرکچر کے تجزیے پر پی ایچ ڈی کی جبکہ حیران کن طور پر کمپیوٹر سائنس میں سربراہ کی کرسی پر گزشتہ 15 سال سے قابض ہیں اور اپنے ڈیپارٹمنٹ میں کسی بھی پی ایچ ڈی ٹیچر کو رکنے نہیں دیتے۔ ان کے اسی رویے کی وجہ سے بیشتر پی ایچ ڈی ٹیچرز جن میں ڈاکٹر عائشہ افضل، ڈاکٹر محمد حسان، ڈاکٹر زاہد حسین قیصر، ڈاکٹر سارہ بخاری، ڈاکٹر فاطمہ عبداللہ ، ڈاکٹر عمر عزیز، ڈاکٹر عبد الرزاق، ڈاکٹر عامر، ڈاکٹر واصف اکبر شامل ہیں، گزشتہ سالوں میں چھوڑ کر ملتان میں ہی موجود ایمرسن یونیورسٹی، ایر یونیورسٹی ملتان اور بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان جوائن کر چکے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کی نئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز سے استدعا ہے کہ کمپیوٹر سائنس کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے باعث این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں مزید پی ایچ ڈی کمپیوٹر سائنس ٹیچرز کو تعینات کرکے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی بھی خالصتاً کمپیوٹر سائنس کے شعبے سے وابستہ افراد کو دی جائے تاکہ این ایف سی کا کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ دوسری یونیورسٹیز کے تعلیمی معیار کا مقابلہ کر سکے۔






