ملتان ( عامر حسینی)پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 بظاہر صوبہ بھر میں صفائی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہےمگر پسِ پردہ اس قانون کو منتخب بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب کرنے اور طاقت کو لاہور میں مرکوز کرنے کی ایک منظم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی دعویٰ ہے کہ اس بل سے صاف ستھرے شہر، بہتر عوامی صحت اور مؤثر سروس ڈیلیوری ممکن ہو گی لیکن ناقدین کے مطابق یہ قانون صفائی سے زیادہ کنٹرول کی سیاست ہے، یہ کوئی وقتی یا تکنیکی اصلاح نہیں بلکہ ایک مخصوص طرزِ حکمرانی کو مضبوط کرنے کی کڑی ہےجس میں اتھارٹیز کے ذریعے حکومت کی جاتی ہے اور مقامی جمہوری ادارے محض کاغذی ڈھانچوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے صوبائی ایگزیکٹو اور بیوروکریسی کے ہاتھ میں دے دیے جاتے ہیں۔دلچسپ اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس بل پر اعتراضات اب صرف اپوزیشن یا سول سوسائٹی تک محدود نہیں رہے۔ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکومتی ارکان نے بھی کھل کر خدشات کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ مرکزیت مقامی حکومتوں کو مزید بے اختیار کر دے گی اور پہلے سے موجود محکموں کے ساتھ اختیارات کے شدید ٹکراؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ اعتراف خود حکومتی صفوں میں موجود بے چینی کو بے نقاب کرتا ہے۔اگرچہ حکومت کے نزدیک اس بل کی وجہ صفائی ہےلیکن اس کا اصل کردار طاقت کا ارتکاز ہے۔ بل کے تحت ایک ایسی مرکزی صوبائی اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے جو پورے پنجاب میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، صفائی اور نام نہاد ماحولیاتی حفظانِ صحت کو کنٹرول کرے گی۔ سرکاری مباحث میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے کہ یہ نظام شہری اور دیہی علاقوں میں کچرا اٹھانے، ری سائیکلنگ اور تلفی کے تمام معاملات کو مرکزی کنٹرول میں لے آئے گا۔پنجاب میں یہ مرکزیت کوئی نیا یا غیر جانبدار قدم نہیں۔ یہاں پہلے ہی مقامی حکومتوں کو بار بار معطل، ری اسٹرکچر اور بیوروکریسی کے ذریعے چلایا جاتا رہا ہے۔ اسی عمل کے دوران بلدیاتی اداروں کے بنیادی اختیارات آہستہ آہستہ ایسے اداروں کو منتقل ہوتے رہے ہیں جو منتخب نہیں بلکہ مقرر کیے جاتے ہیں۔سرکاری بیانیہ جس نکتے سے جان بوجھ کر نظریں چرا رہا ہے وہ یہ ہے کہ صفائی محض ایک سروس نہیں۔ یہ مقامی حکومت کی سب سے طاقتور ذمہ داریوں میں شامل ہے، جس میں اربوں روپے کے ٹھیکے، آؤٹ سورسنگ، خریداری، لیبر کنٹرول، زمین کا استعمال، نفاذ، فیسوں کا تعین اور شہریوں سے روزمرہ رابطہ شامل ہوتا ہے۔ جب صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ بلدیاتی اداروں سے چھین لی جائے تو مقامی حکومت عملاً مفلوج ہو جاتی ہے اور صرف نام کی حد تک باقی رہتی ہے۔یہ ماڈل نیا نہیں۔ بل سے قبل ہی ستھرا پنجاب پروگرام کو تمام 36 اضلاع تک پھیلایا جا چکا ہے، جسےیونیفائیڈ صوبائی گورننس قرار دے کر روزانہ ہزاروں ٹن شہری کچرے کے انتظام کو صوبائی سطح پر معمول بنا دیا گیا۔ اس کے ذریعے یہ تصور راسخ کیا گیا کہ ویسٹ مینجمنٹ صرف اوپر سے، بڑے پیمانے پر اور مرکز کے ذریعے ہی چل سکتی ہے۔جب اس بل کا آرڈیننس ورژن سامنے آیا تو جمہوری بائی پاس مزید کھل کر سامنے آ گیا۔ وزیراعلیٰ کو اتھارٹی کا چیئرپرسن، بلدیات کے وزیر کو وائس چیئرپرسن، اور ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کو ستھرا پنجاب ایجنسی کا سربراہ بنایا گیا جب کہ اتھارٹی کو ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق فیسیں اور ضابطے طے کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ یعنی مرکز حکم دے گا اور ضلعی بیوروکریسی عمل درآمد کرائے گی — وہاں بھی جہاں شہری عام طور پر منتخب نمائندوں سے جواب دہی کی توقع رکھتے ہیں۔یوں مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے بجائے، صفائی کو ایک متوازی، غیر منتخب اور طاقتور ڈھانچے کے قیام کا جواز بنا دیا گیا ہے۔یہاں ’’فالو دی منی‘‘ ایک سنگین سوال بن کر سامنے آتا ہے:ٹھیکوں کا کنٹرول کس کے پاس ہو گا؟ آؤٹ سورسنگ اور پروکیورمنٹ کون کرے گا؟ ٹینڈرز، مشینری، لینڈ فل سائٹس، ویسٹ ٹو انرجی منصوبے، نجی آپریٹرز اور لیبر پر فیصلہ کن اختیار کس کے پاس ہو گا؟ ناقدین کے مطابق جب طاقت مرکز میں جمع ہوتی ہے تو مالی مفادات، سرپرستی اور غیر شفاف فیصلے بھی وہیں سمٹ آتے ہیں۔ یوں یہ بل صفائی پالیسی نہیں بلکہ سیاسی معیشت کا ایک طاقتور آلہ بن جاتا ہے۔یہ اقدام تنہا نہیں۔ یہ ایک وسیع تر حکومتی پیٹرن کا حصہ ہے، جس کے تحت پنجاب میں ایسے صوبائی ادارے بنائے جا رہے ہیں جو منتخب بلدیاتی اداروں کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے اوپر کام کرتے ہیں۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 پر پہلے ہی یہ تنقید ہو چکی ہے کہ اس نے اختیارات منتخب نمائندوں کے بجائے ڈپٹی کمشنرز اور بیوروکریسی کو منتقل کر دیے ہیں۔ سہولت بازار اتھارٹی، مختلف ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، اربن ڈیولپمنٹ اینڈ ہاؤسنگ اتھارٹیز اور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹیز اسی سلسلے کی کڑیاں سمجھی جا رہی ہیں۔ان تمام اقدامات میں ایک واضح پیغام ہے:صوبہ اختیارات منتقل نہیں کرتا وہ انہیں مرکزیت دیتا ہے۔وہ منتخب نمائندوں کو طاقتور نہیں بناتا وہ اتھارٹیز اور بورڈز قائم کرتا ہے۔وہ مقامی اداروں کو خودمختار نہیں کرتا بلکہ انہیں اوپر سے کنٹرول ہونے والے ڈھانچوں میں بدل دیتا ہے۔حکومت اس سب کو کارکردگی کے نام پر درست ثابت کرتی ہے: یکساں معیار، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر نگرانی۔ قائمہ کمیٹی میں بھی صاف شہروں اور بہتر صحت کے ممکنہ فوائد تسلیم کیے گئے، مگر ناقدین کے مطابق یہ دلیل دو بنیادی سوالات کے سامنے دم توڑ دیتی ہے۔پہلا: کیا مقامی حکومتوں کو ختم کرنے سے واقعی جواب دہی بڑھی ہے، یا صرف یہ بدل گیا ہے کہ کون جواب دہ نہیں؟دوسرا: کیا مرکزیت بیوروکریسی کم کرتی ہے، یا اس میں مزید پیچیدہ پرتیں شامل کر دیتی ہے؟خود حکومتی ارکان نے دیہی علاقوں میں نفاذ اور محکموں کے باہمی ٹکراؤ پر خدشات ظاہر کیے جو اتھارٹی پر مبنی حکمرانی کی زمینی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔آئینی اور جمہوری اثرات بھی غیر معمولی ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومت کو فعال اور بااختیار سطح بنانا چاہتا ہے، مگر جب صفائی، ماحولیات اور ویسٹ مینجمنٹ کو صوبائی اتھارٹی کے سپرد کر دیا جائے تو فیصلے محلوں اور شہروں سے ہٹ کر لاہور میں مرکوز ہو جاتے ہیں۔یوں شہری جمہوری شراکت دار نہیں رہتے بلکہ محض سروس یوزرز بن جاتے ہیں: شکایت درج کروائیں، ٹکٹ ٹریک کریں، فیصلہ قبول کریں۔ کہیں کہیں شاید سڑک صاف ہو جائے، مگر جمہوریت مزید خاموش ہو جاتی ہے۔اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ستھرا پنجاب واقعی صاف ہو گا؟اصل سوال وہ ہیں جن سے حکومت مسلسل بچ رہی ہے۔مقامی حکومتوں کو عملی خودمختاری کیوں نہیں دی جا رہی؟بنیادی بلدیاتی خدمات منتخب اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں؟۔کیا پنجاب دانستہ طور پر ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں اختیارات لاہور میں مرتکز ہوں اور محلّہ و شہر کی سطح پر جمہوریت کمزور پڑ جائے؟کیونکہ جب صفائی کے نام پر لکھا گیا قانون طاقت کو مرکز میں سمیٹ لے، بیوروکریسی کے ذریعے نافذ ہو اور فیسوں و ٹھیکوں کے ذریعے مالی کنٹرول قائم کرے تو وہ صفائی کی خبر نہیں رہتی۔وہ جمہوری زوال کی سنسنی خیز خبر بن جاتی ہے۔







