ملتان(یوسف عابد سے) ملک بھر میں17 سال سے نافذ نیشنل جوڈیشل پالیسی زیر التوامقدمات میںکمی نہ لا سکی جبکہ حالیہ توانائی بچت پالیسی کے تحت ملک بھر کی عدالتوںمیں محدود مقدمات کی سماعت کا آغاز ہو گیا جس سے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے اور انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آنے کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا ہے ۔جوڈیشل پالیسی کے نفاذ کے وقت ملک میںزیر التوا مقدمات کی تعداد 17 لاکھ 4 ہزار 872 سے بڑھ کر 22 لاکھ 22 ہزار 42 ہو چکی ہے نیز کورونا وبا کے دوران بھی تمام عدالتیں فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد میںایک بڑا حصہ لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے حصے میںہے۔ ملک میں عدلی بحالی کی وکلاء تحریک کی کامیابی کے بعد سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی جانب سے عوام کو عدلیہ بحالی کے ثمرات پہنچانے کے لئے زیر التوا مقدمات تیزی سے نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد یکم جون 2009ء کو جوڈیشل پالیسی کا نفاذ کیا گیا تاہم ابتداء سے ہی وکلاء نے اس پالیسی کی مخالفت کی اور کئی ماہ تک ہفتے میں ایک روز عدالتی بائیکاٹ کیا جاتا رہا ۔ اس پالیسی کے تحت تمام مقدمات کے فیصلوں کے لئے ٹائم فریم بھی مقرر کیا گیا اور عدالتوں کو مقررہ وقت میں فیصلے کی ہدایت کی گئی لیکن وکلاء کی جانب سے تیز ترین انصاف کو انصاف کا قتل قرار دیا گیاجس کے باعث مقررہ ٹائم فریم 3 روز میں درخواست ضمانت قبل از گرفتاری اور 7 روز میں ضمانت بعد از گرفتاری، 15 روز میںمنسوخی ضمانت، ایک سال میں7 سال سزا سے سزائے موت کے مقدمات،حکم امتناعی 15 روز، فیملی مقدمات 3 سے 6 ماہ، کرایہ داری کیس 4 ماہ کے ساتھ دیگر مقدمات کا بھی مقررہ ٹائم فریم میں فیصلہ نہیں ہو سکا جبکہ عدالتیں بھی نا مساعد حالات کا شکار تھیںجس کے بعد کے عرصہ میں ججز کی تعداد اور سہولیات میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ، وکلاء کی مشاورت اور مطالبات پر مقدمات کے ٹائم فریم اور دیگر طریقہ کار میں بھی کئی تبدیلیاں لائی گئیں لیکن زیر التواء مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی نہیں لائی جاسکی۔اس وقت ملک بھر کی عدالتوں میں دائر ہونے والے مقدمات کے تناسب سے ذیادہ فیصلے کئے جارہے ہیں لیکن زیر التواء مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، زیر التواء مقدمات میں سب سے زیادہ تعداد دیوانی نوعیت کے مقدمات کی ہے اور اس کے بعد فوجداری نوعیت کے چھوٹے جرائم کی ہے۔ نیز پولیس کی جانب سے مقدمات کے بر وقت اندراج نہیں کرنے ، شہریوں کو جس بے جا میں رکھنے ، عدالتی احکامات کی بر وقت تعمیل نہیں کرنے ، عدالتوں میں بروقت بطور گواہ پیش نہیں ہونے اور دیگر سرکاری اداروں کے افسروں کی جانب سے ملازمین کی داد رسی نہیں کرنے کے مقدمات اور شہریوں کی جانب سے ہراسمنٹ کے مقدمات عدالتوں پر اضافی بوجھ کا باعث ہے۔تاہم اب توانائی بچت پالیسی کے تحت ملک بھر کی عدالتوں میں محدود پیمانے پر فرائض کی انجام دہی کا آغاز کیا گیا ہے. جس پر لاہور بار ایسوسی ایشن اور کئی وکلاکی جانب سے اقدام کی مخالفت کی کرتے ہوئے زیرالتواء مقدمات کے مزید تاخیر میںچلے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔







