سانحہ ملتان؛پولیس سول ڈیفنس کا مکمل ہاتھ،تھانہ مظفرآبادکے تمام خرچےمافیا کے ذمے

ملتان (سٹاف رپورٹر) تھانہ مظفر آباد کی حدود میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کے آبائی گاؤں حامد پور کنورہ میں ایل پی جی باؤزر پھٹنے سے ہونے والی 6 سے زائد ہلاکتوں، 2 درجن سے زائد زخمیوں اور بھاری مالی نقصان میں بالآخر پولیس اور محکمہ شہری دفاع ہر مرحلے پر ملوث پائےگئے۔ ملک بھر میں ایل پی جی میں CO2 کی ملاوٹ کا کروڑوں روپے کا دھندہ چلانے والے شجاع آباد کے رہائشی غلام مرتضیٰ اور محسن ملک نے یہ جگہ 2 سال قبل ایک شخص الیاس جٹ سے 55 ہزار ماہوار کرائے پر لی جس کا اندراج تھانہ مظفر آباد میں بھی موجود ہے حالانکہ تھانہ مظفر آباد پولیس کا گزشتہ 2 سال میں کوئی بھی ایس ایچ او ایسا نہیں آیا جس کی اس گودام میں آمد اور روانگی نہ ہوتی رہی ہو اور پولیس کے نچلے عملے کا تو قیام و طعام ہی اس گودام میں ہوتا تھا۔ پولیس کے اعلیٰ افسران اس بات سے آگاہ ہیں کہ جس وقت یہ حادثہ ہوا پولیس کے 2 کانسٹیبل وہاں موجود تھے جو بھاگ گئے۔ غیر قانونی دھندے کے عوض مظفر آباد پولیس کو کیا منتھلی ملتی تھی اس کا کوئی اندازہ نہیں، البتہ الطاف بلوچ نامی کانسٹیبل پولیس کے نام پر غلام مرتضیٰ سے مبینہ طور پر 7 لاکھ روپے ماہوار لیتا تھا جبکہ پولیس کا قیام و طعام، فری پٹرول اور فری ایل پی جی سلنڈر تو روٹین کا معمول تھے۔ الطاف بلوچ تھانہ مظفر آباد میں تعینات رہنے والے ہر ایس ایچ او سے ڈیل کی ذمہ داری پوری کرتا تھا۔ جب یہ حادثہ ہوا تو غلام مرتضیٰ، محسن اور راشد نامی تینوں مالکان کانسٹیبل الطاف بلوچ سے مسلسل رابطے میں تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2024 میں اس گودام کے مالک الیاس چدھڑ نے پولیس کی آمدورفت اور غیر قانونی دھندے کے باعث اسے خالی کروانے کی کوشش کی تو منیر نامی سابق ایس ایچ او مظفر آباد نےگودام مالکان کو تھانے بلا کر گالیاں دیں ۔ بتایا گیا ہے کہ شجاع آباد کے اس ملاوٹ مافیا کے 3 گودام سندھ میں پنوں عاقل، ڈہرکی اور دولت پور میں جبکہ دو ملتان اور لودھراں کی حدود میں ہیں جس میں ملتان میں اور ایک لودھراں خانیوال روڈ پر دن رات بائوزرز میں سے ایل پی جی نکالنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ملاوٹ کا دھندہ جاری رہتا ہے۔ یہ جعل ساز ملتان انڈسٹریل ایریا سے Co2 خریدتے ہیں اور اس کی ملاوٹ ایل پی جی کے باؤزروں میں کرتے ہیں۔ ان گوداموں میں 30 ٹن کے ایل پی جی باؤزر سے 3 سے 5 ٹن ایل پی جی نکال لی جاتی ہے اور CO2 پریشر پمپ کے ذریعے بھر دی جاتی ہے۔ حادثے کے وقت سب سے پہلے مظفر آباد پولیس نے وہاں پہنچ کر گودام مالکان اور ملاوٹ مافیا کو وہاں سے غائب کروا دیا جن کو فائر بریگیڈ والوں نے روکا ہوا تھا بعد میں ان کو اس ایف آئی آر میں بھی نامزد نہ کیا گیا جس کا مدعی از خود اس سانحے کا مبینہ سہولت کار ایس ایچ او مظفر آباد ہے۔ ایس ایچ او مظفر آباد نے ملاوٹ مافیا کو فرار کروانے کے بعد اس گودام کے اسی مالک محمد الیاس اور اس کی فیملی کو مقدمے میں نامزد کر دیا جو ایک سال سے اپنا گودام خالی کروانےکیلئے پولیس افسران کے دروازوں پر دھکے کھا رہا تھا تاہم ایف آئی آر کے اندراج کے وقت ایس پی کینٹ کی مداخلت سے غلام مرتضیٰ کا نام ایف آئی آر میں شامل کر دیا گیا جبکہ یہ سب بھی ڈیل کے تحت ہوا جس کا ایس پی کینٹ کو علم نہیں۔ مظفر آباد پولیس کی ڈیل یہ تھی کہ ہم 4 میں سے 3 لوگوں کو نکال دیتے ہیں اور کوئی ایک نام آپ دے دیں اسے ایف آئی آر میں شامل کرکے بعد میں تفتیش میں فارغ کر دیں گے جس پر ملک محسن اور راشد سمیت 3 افراد کو بھاری ڈیل کے عوض ایف آئی آر سے نکال کر غلام مرتضیٰ کا نام رہنے دیا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان نے سی پی او ملتان کو ہدایت کی ہے کہ مظفر آباد کے ایس ایچ او اور سکیورٹی کانسٹیبل الطاف بلوچ کا موبائل ڈیٹا نکالا جائے اور اس ڈیٹا کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ سول ڈیفنس اور ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ کا عملہ بھی نہ صرف اپنے لئے منتھلی لیتا تھا بلکہ ضلعی انتظامیہ کے نام پر بھی منتھلی لیتا تھا جس کا ضلعی انتظامیہ کو علم ہی نہ تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کمشنر ملتان نے بھی سول ڈیفنس سے وضاحت طلب کرلی ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں