ملتان(سٹاف رپورٹر)ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں ایک دن کے فرق سے ہونے والے چار ایل پی جی باؤزر زکے دھماکوں سے 9 افراد کے منہ میں جانے اور 40سےزائد افراد کے زخمی ہونے کے سانحےنے سرکاری اداروں کی کارکردگی کا لباس تار تار کر کے بیچ چوراہے لٹکا دیا۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات اور تقریباً مصدقہ اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان میں سات سے آٹھ ہزار ایل پی جی کے بائوزر دن رات میزائل کی شکل میں سڑکوں پر رواں دواں ہیں اور موت کے سرٹیفکیٹ لئے پھر رہے ہیں جبکہ وفاق کے زیرانتظام محکمے ایکسکلوسو ڈیپارٹمنٹ کے ملک بھر میں قائم چھ دفاتر گزشتہ چار دہائیوں میں صرف800 باؤزر ہی کو رجسٹر کر سکے ہیں جبکہ 6ہزار سے زائد ٹرالرز پر نصب شدہ باؤزرز کسی بھی ریکارڈ میں نہیں اور کوئی بھی سرکاری ادارہ انہیں چیک نہیں کرتا ۔یہ چلتے پھرتے بم آئے روز حادثات کا باعث بنتے ہیں اور دو سال قبل بھی لاہور کے شاہدرہ چوک میں اسی قسم کے ایک ایل پی جی باؤزر بم کا ٹرالر الٹ کر پھٹ گیا تھا جس سے درجن افراد جل کر راکھ ہو گئے تھے مگر اس واقعہ نے بھی سرکاری اداروں کو کسی قسم کی کارروائی پر راغب نہ کیا ۔گزشتہ سے پیوستہ روز بائی پاس روڈ ملتان پر ایل پی جی باؤزر میں کاربن ڈائی آکسائیڈکی ملاوٹ کے دوران لگنے والی آگ سے تباہ ہونے والے ایک گھر کے کھلے آسمان تلے بیٹھی ضعیف عورت نے جھولی اٹھا کر کہا’’ اللہ کرے سڑکوں پر چلتے یہ بم پھٹ جائیں اور کسی افسر کی گاڑی اس کی لپیٹ میں آجائے تو میرا اللہ میرا بدلہ پورا کر دے گا‘‘۔ روزنامہ قوم کی ٹیم نے گزشتہ روز ملتان کے علاقے شالیمار کالونی میں کافی دیر کوشش کے بعد ایل پی جی باؤزر اور پٹرول پمپوں کیلئے فارم ’’R‘‘ اور فارم’’K‘‘ نامی اجازت نامے جاری کرنے والے وفاقی حکومت کے ادارے ایکسپلوزو ڈیپارٹمنٹ کا دفترڈھونڈ نکالا تو وہاں ڈپٹی ڈائریکٹر محمد آصف سے ملاقات ہوئی ۔انہوں نے بتایا کہ اس وفاقی محکمے کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہے جبکہ ملتان، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں دفاتر ہیں اور ملتان کا دفتر جنوبی پنجاب کے 18 ا ضلاع کو صرف 10 رکنی عملے کے ساتھ کنٹرول کرتا ہے اور یہ محکمہ صرف لائسنس جاری کرتا ہے اس کے پاس چیکنگ اور دیگر کارروائی کے ا ختیارسرےسے موجود ہی نہیں ،ان سے پوچھا گیا:کہ آپ کا محکمہ 1934کے پٹرولیم ایکٹ کی رو سے قائم ہے اور پٹرولیم ایکٹ1934 کی رو کے تحت تو آپ کے پاس اختیارات موجود ہیں تو انہوں نے تین بھاری فائلیں میز پر رکھ دیں جن میں جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کے انتظامی سربراہان کے نام سینکڑوں خطوط موجود تھے جن میں ملتان شہر کے متعدد پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ تھے اور متعدد کو مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سیل کرنے کا لکھا گیا تھا مگر کوئی بھی خط عمل درآمد کے مرحلے سے نہ گزرا ۔حیران کن امر یہ تھا کہ ملتان کے ایک معروف چوک میں موجود ایک معروف آئل کمپنی کے پٹرول پمپ کو دو سال قبل سیل کرنےکیلئے ڈپٹی کمشنر ملتان کو خط لکھا گیا تھا مگر وہ پٹرول پمپ ایک گھنٹے کیلئے بھی سیل نہ ہو سکا ۔ایکسپلوزو ڈیپارٹمنٹ کا شکوہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ سرے سے تعاون ہی نہیں کرتی ۔ڈپٹی ڈائریکٹر محمد آصف سے سوال کیا گیا کہ باؤزر میں زیادہ سے زیادہ 30 میٹرک ٹن ایل پی جی ٹرانسپورٹ کی جا سکتی ہے مگر پاکستانی سڑکوں پر تو 50 میٹرک ٹن والے بائوزرز بھی کھلے عام پھر رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ سارے غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ہیں اور ڈیرہ غازی خان میں جو باؤزر پھٹے وہ بھی غیر رجسٹر ڈتھے جبکہ ملتان والے اسلام آباد سے رجسٹرڈ تھے۔جنہیں ایک کروڑ فی بائوزر جرمانہ کر دیا گیا ہے مگر انہوں نے تسلیم کیا کہ ایک کروڑ جرمانہ دینے کےبجائے7ہزارروپے فیس کے ساتھ وہ کسی اور نمبر سے دوبارہ رجسٹریشن کرا لیں گے کیونکہ سرکاری اداروں کا آپس میں رابطے کا فقدان ہے جس سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جنوبی پنجاب میں سینکڑوں غیر قانونی پٹرول پمپ اور ہزاروں ڈبہ سٹیشن پٹرول فروخت کر رہے ہیں جن بارے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو لکھا جاتا ہے مگر کوئی بھی کارروائی نہیں کرتا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر محمد آصف نے بتایا کہ قواعد وضوابط کے مطابق کوئی عام شخص باؤزر ٹرانسپورٹ کا لائسنس لیتا ہی نہیں کیونکہ اسے لائسنس کیلئے کسی نہ کسی ایل پی جی پلانٹ کے ساتھ معاہدہ ظاہر کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملتان میں پھٹنے والے باؤزرز کی رجسٹریشن بھی منسوخ کر دی گئی ہے






