ملتان (سٹاف رپورٹر) سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکے گینگ کا پھیلایا ہوا زہر اثر دکھانے لگا، اس وقت یونیورسٹی اس حد تک مالی بحران کا شکار ہو چکی ہے کہ یونیورسٹی کے پاس اب تنخواہیں اور پنشن دینے کے بھی پیسے نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب ٹیچنگ سٹاف کو بھی فیکٹری مزدوروں کی طرح مہینے میں 2 بار آدھی آدھی تنخواہ دینےکا غیر اعلانیہ فیصلہ کر لیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے گزشتہ ماہ کی تنخواہ اور پنشن کی نصف ادائیگی کرکے باقی نصف تنخواہ و پنشن کی اس ماہ کے آخر تک مرحلہ وار ادا کرنے کا جھانسہ دے دیا ہے۔ یونیورسٹی کو اس مالی ابتری تک پہنچانے میں سابق وائس چانسلر اور ان کی کرپٹ ٹیم کا نمایاں کردار کچھ اس طرح سے تھا کہ اس گروہ نے کورونا جیسی بیماری کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ ہوا یوں کہ کورونا میں میٹرک اور ایف ایس سی میں تمام بورڈز نے تقریباً 100 فیصد طلبہ و طالبات کو پاس کر دیا تھا جس سے اسلامیہ یونیورسٹی کی لاٹری نکل آئی اور یونیورسٹی میں 35 سے 38 ہزار طلبہ کی جگہ کرونا والے تعلیمی سال میں 72 ہزار طلبہ نے داخلہ لے لیا اور طلبا و طالبات کا یہ سیشن جسے کورونا سیشن بھی کہا جاتا ہے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے سٹاف، کلاس رومز، نان ایگزیکٹو سٹاف کی کمی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فارمولے سے ہٹ کر از خود ہی غیر قانونی طور پر اضافی نشستیں بنا کر 72 ہزار طلبہ کو داخلے دے دیئے۔ کمائی کا یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر اطہر محبوب اور اس کی کرپشن میں ملوث ٹیم نے دھڑا دھڑ ملازمتیں دینا شروع کر دیں اور نوے فیصد ملازم جن میں پروفیسر حضرات بھی شاملِ تھے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر رکھے گئے۔ جہاں ایک ملازم سے کام چلتا تھا وہاں 10، 10 ملازم رکھے گئے حتیٰ کہ اس حد تک لوٹ مچی ہوئی تھی کہ یونیورسٹی کی بھرتی ٹیم نے بعض صحافیوں کو کمیشن پر ہائیر کر رکھا تھا کہ آپ نوکری کے خواہشمندوں سے پیسے طے کریں تو کمیشن آپ کو بھی ملے گی بصورت دیگر ایک بندہ آپ کا اکاموڈیٹ کر لیا جائے گا بس آپ نوکری کے خواہشمندوں کو لائیں ہم ملازمتیں دیتے ہیں۔ اس طرح ہزاروں کی تعداد میں سٹاف بھرتی کیا گیا اور ایک ایک آسامی کے مقابل 6,6 افراد کو ملازمتیں دی گئیں ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ڈاکٹر اطہر محبوب اربوں روپے لوٹ کر فرار ہو چکے ہیں ۔ ان کے شریک جرم یونیورسٹی سٹاف ممبران لوٹ مار کے پیسے کو انجوائے کر رہے ہیں اور ایف ایس سی بورڈ کی طرف سے کامیاب اُمیدواروں کی شرح لگ بھگ کورونا سے پہلے والی صورتحال کی طرف جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی میں 72 ہزار طلباء و طالبات کی جگہ اب وہی 45 سے 48 ہزار طلبہ و طالبات داخلوں کی گنتی میں آ چکے ہیں تاہم رشوت کی بنیاد پر بھرتی شدہ اضافی ملازمین پوری آب و تاب سے موجود ہیں اور یونیورسٹی کے وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اب یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور کبھی کبھار منہ دکھائی کے لیے آنے والے قائم مقام وائس چانسلر مستقل بنیادوں پر فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ سالانہ انکریمنٹ دیے جانے کا فیصلہ بھی موخر کئے جانے کا امکان ہے ۔






