ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کے سب سے معروف اور شاندار رویات کے حامل کالج گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان جسے چند سال قبل نام تبدیل کرکے ایمرسن یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، میں 2022 میں لائبریرین سے ترقی پا کر وائس چانسلر بننے والے 67 سالہ ڈاکٹر رمضان گجر کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق ڈاکٹر رمضان گجر نے مرد سٹاف کی تعیناتیوں کے لیے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر چوہدری شبیر گجر جن کے پاس زکریا یونیورسٹی لودھراں کیمپس کے ڈائریکٹر کا اضافی چارج بھی ہے، کو مبینہ طور پر فرنٹ مین بنا رکھا تھا کے ذریعے امیدواران سے معاملات طے کرتے ہوئے اور ڈاکٹر شبیر گجر کو نوازتے ہوئے ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ کے سیکشن 29 کے بر خلاف ڈاکٹر شبیر گجر کی بیوی ڈاکٹر عظمیٰ نیاز کو سنیارٹی کے بر خلاف ڈیپارٹمنٹ آف سوشل اینڈ بیہیوریل سائنسز کا سربراہ مقرر کر دیا جبکہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کی ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ نیاز صرف 10 سالہ تجربہ کی حامل ہیں۔ مگر ڈاکٹر روبینہ علی 12 سال اور ڈاکٹر قرات العین 11 سالہ تجربہ کی حامل ہیں۔ اور ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ 2021 کے سیکشن 29 کے مطابق پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر نہ ہونے کی صورت میں یہ چارج صرف سینیر موسٹ ٹیچر کو دیا جا سکتا ہے۔ جبکہ قانون کے برخلاف ڈاکٹر شبیر گجر کی فرنٹ مین کی سہولیات کی بابت یہ نوازشیں ڈاکٹر شبیر گجر کی اہلیہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ نیاز پر کرتے ہوئے ان کو ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ۔ ایمرسن یونیورسٹی میں تعیناتیوں کے لئے ڈاکٹر چوہدری شبیر گجر کیطرف سے فراہم کردہ فہرست ہی حتمی شمار ہوتی ہے اور تعیناتیوں کے لیے ڈاکٹر رمضان گجر کے بااعتماد عملے کی جانب سے ڈاکٹر شبیر چوہدری ہی کا رابطہ نمبر دیا جاتا ہے اور تمام تر معاملات بی زیڈ یو سوشیولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر شبیر گجر ہی کرتے ہیں اور اکثر اوقات رات کے کھانے اور بیٹھک ڈاکٹر رمضان گجر اور ڈاکٹر شبیر کی مشترکہ ہوتی ہیں جہاں حتمی فیصلے بھی ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی اس حوالے سے غیر قانونی تعیناتیوں اور پہلے سے تیار شدہ لسٹوں پر سلیکشن کمیٹی کے افراد کے دستخط لینے کے حوالے سے خبریں شائع ہو چکی ہیں اور اس بارے میں سکون آور ماحول میں سوئے ہوئے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، اس خبر کے حوالے سے موقف کے لیے جب ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے پی آر او ڈاکٹر محمد نعیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حسب معمول موقف دینے سے گریز کیا۔






