زکریا یونیورسٹی کے شعبے عشرت کدوں میں تبدیل، جوڑا قابل اعتراض حالت میں پکڑا گیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں غیر اخلاقی سرگرمیوں اور چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات انتظامیہ کی رِٹ پر سنگین سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ متعدد شکایات، واقعات اور تحریری رپورٹس کے باوجود نہ تو ان پر مؤثر قابو پایا جا سکا اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں آ سکی، جس کے باعث کیمپس میں بدانتظامی اور بے لگام پن کے تاثر کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وٹرنری سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں ایک سنگین واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈین وٹرنری سائنسز ڈاکٹر فقیر محمد کے رشتہ دار ڈاکٹر عرفان نے مبینہ طور پر ایکسکیورٹی گارڈ قیصر وڑائچ کو ایک خاتون کے ہمراہ شام تقریباً سات بجے ڈیپارٹمنٹ کے اندر قابلِ اعتراض حالت میں پکڑ لیا۔ واقعے کی فوری اطلاع آر او ڈاکٹر مقرب اکبر اور چیف سیکیورٹی آفیسر ڈاکٹر عثمان سلیم کو دی گئی جو موقع پر پہنچے اور حالات کا خود مشاہدہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ رجسٹرار بی زیڈ یو کو مکمل طور پر آگاہ کرنے کے بعد معاملے کی باقاعدہ انکوائری اور پولیس کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔تاہم عینی شاہدین کے مطابق عین موقع پر ایمپلائز یونین سے منسلک چند بااثر افراد نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو یکسر بدل دیا اورسکیورٹی گارڈ اور خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی وہاں سے لے گئے۔ اس دوران واقعہ کی نشاندہی کرنے والے اساتذہ، چیف سیکیورٹی آفیسر اور آر او محض تماشائی بن کر رہ گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد ازاں واقعے کی مکمل رپورٹ رجسٹرار کو ارسال کی گئی، مگر اتنے سنگین نوعیت کے واقعے کے باوجود تاحال کسی قسم کی عملی کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔یونیورسٹی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جب غیر اخلاقی سرگرمیوں اور چوری کے واقعات بار بار رپورٹ ہو رہے ہیں تو سیکیورٹی نظام کیوں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آر او ڈاکٹر مقرب اکبر کے دور میں متعدد چوریوں کے واقعات رپورٹ ہوئے مگر کسی بڑے ملزم کی گرفتاری یا مثال قائم کرنے والی سزا سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح اس تازہ واقعہ میں ایمپلائز یونین کے افراد کا مداخلت کر کے اپنے مبینہ ساتھی کو چھڑا لے جانا انتظامی کمزوری یا ملی بھگت کے خدشات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔کیمپس میں یہ بحث بھی زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا آر او ڈاکٹر مقرب اکبر اور چیفسکیورٹی آفیسر ڈاکٹر عثمان سلیم اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں یا پھر ماتحت عملے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں دانستہ یا نادانستہ تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بی زیڈ یو میں سکیورٹی، اخلاقی نظم و ضبط اور چوری کے واقعات کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ایمپلائز یونین سمیت ہر بااثر گروہ کی غیر قانونی مداخلت کا سدِباب کیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں