ملتان(کرائم رپورٹر)زلیخا، عمران خان کیس میں اغوا ،بھتہ خوری، بلیک میلنگ ثابت ہونے کے باوجود پولیس اور ملزمان کی مبینہ طور پر ایک بااثر کے ذریعے بھاری ڈیل ہو گئی اور بھتہ خوری کی ثابت شدہ دفعات لگانے سے پولیس کو روک دیا گیا جس کے بعد قبضہ میں لیا گیا موبائل بھی عمران خان کو واپس کر دیا گیا اور ایک ڈی ایس پی و دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں بھتہ کی رقم لئے جانے کے باوجود غیر برآمدگی ڈالے پولیس نے عمران خان، علی ارسلان اور کال گرل زلیخاکو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔اس طرح ملتان پولیس ایک بار پھر بد قماش گروہ کی سہولت کار بن کر سامنے آگئی اور عدالت میں بھی کوئی ثبوت پیش نہ کئےگئے جس کی بنا پر اگلے دو روز میں یہ منظم بھتہ خور گینگ ضمانت پر آکر کاروبار شروع کر دے گا۔شہری بلیک میل ہوتے رہیں گے البتہ اب ان کو پولیس کی معاونت بھی ہوگی جو پہلے نہ تھی۔علاوہ ازیںبد قماش خواتین کے ذریعے معززین شہر کو دعوت طعام کی آڑ میں دعوت گناہ پر آمادہ کرنے والے بدنام گروہ کے سرغنہ اور مقامی صحافی عمران خان بارے مزید انکشافات ہوئے ہیں کہ اس کا گینگ گزشتہ6سال سے اسی قسم کی سرگرمیوں میں مصروف تھا اور لوگوں کی ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کر کے ہر طرح کےمفادات حاصل کرتے تھے حتیٰ کہ بعض لوگوں سے باقاعدہ بھتہ لیتے تھے جبکہ اس کی دوستی ملتان کے متمول صنعت کاروں سے بھی اسی نوعیت کی تھی اور تین صنعت کار ایسے تھے جو اس کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے تھے اور اب بھی ویڈیوز ریکارڈنگ کی وجہ ہی انہیں عمران خان کی ہر طرح سے سپورٹ کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کا دبئی، باکو ،تھائی لینڈ اور مالدیپ میں بھی بعض طوائفوں سے رابطہ تھا جنہیں یہ پاکستان بھی بلوایا کرتا تھا اور بعض اوقات یہاں سے لوگوں کو بھی لے کر جاتا تھا جن میں کاروباری حضرات کے علاوہ ایف بی آر افسران بھی شامل ہوتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ملتان میں شراب کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بھی عمران خان ہی آپریٹ کرتا تھا اور ڈانس کی طرف راغب کرنے والی مخصوص ٹیبلٹس کی سپلائی بھی اس کے ذمے ہی ہوتی تھی۔ یہ ملتان میں فارم ہاؤسز بھی بک کراتا تھا اور کسٹم افسران تک اس کی اتنی زیادہ رسائی تھی کہ نان کسٹم آئی فونز پاکستان میں براستہ ملتان لانے کا سب سے پرانا اور سب سے بڑا نیٹ ورک بھی اسی کا تھا۔ کسٹم افسران اس حد تک عمران خان کی بلیک میلنگ کا شکار تھے کہ اس کی طرف سے بھجوایا جانے والا کوئی بھی کام کسی بھی میز پر کم ہی رکتا تھا ۔معلوم ہوا ہے کہ ملتان پولیس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ ہتھ ہولارکھیں اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک عمران خان کا موبائل فرانزک آڈٹ کیلئےنہیں بھجوایا جا سکا






