ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان کی سب سے قدیم اور زراعت کے حوالے سے دنیا بھر کے معروف زرعی ماڈل ’’لائلپورماڈل ‘‘ کی خالق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی ریٹائرڈ وائس چانسلر ڈاکٹر راؤ اقرار کی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی تعیناتیوں پر گورنر پنجاب کی طرف سے ان تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دینے اور ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل خود سینڈیکیٹ سے خود کو پروفیسر ایمریٹس(emeritus) کی منظوری کے حوالے سے رپورٹ روزنامہ قوم کو موصول ہو گئی ہے جس کے مطابق سابق وائس چانسلر کی طرف سے میرٹ کے منافی کی گئی 228 تقرریوں اور خود کو پروفیسر ایمریٹس کی منظوری کو گورنر پنجاب کی طرف سے کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ مختلف تعلیمی حلقوں میں یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان جو کہ 19 اکتوبر کو ریٹائر ہو چکے ہیں، نے ریٹائرمنٹ سے قبل متعدد سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ کے اجلاس بلائے اور یونیورسٹی میں مختلف اسامیوں پر بغیر اشتہار اور بغیر قوا عد و ضوابط پورے کئے ریگولر تعیناتیاں کر کی گئیں۔ سبکدوش ہونے والے وائس چانسلر کے اقدامات کو ان کی مدت سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا جو ممکنہ طور پر نئے آنے والے وائس چانسلر کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر سکتا تھا۔ ساتھ ہی وائس چانسلر کی جانب سے گورنر/ چانسلر کے بعض احکامات/فیصلوں پر عمل درآمد، جو کہ فیلڈ میں اور نیم عدالتی نوعیت کے ہیں، جو یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد ایکٹ 1973 کے تحت لئے گئے ہیں یا پیڈا ایکٹ 2006 کو کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا گیا ہے۔ ریٹائر ہونے والے وائس چانسلر کی سربراہی میں سنڈیکیٹ نے ان کی ریٹائرمنٹ کے اگلے ہی دن انہیں پروفیسر ایمریٹس (اعزازی خطاب)کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو کہ ‘مفادات کے تصادم کی ایک واضح مثال ہے۔






