ریپ کیس،ذلیخا کے اہم افسروں سے تعلقات ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے سہولتکار

ملتان(سٹاف رپورٹر)ریپ کیس کی مبینہ متاثرہ ذلیخاصدیق کے بارےمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ ڈرماٹولوجی کی ڈپلومہ ہولڈر ہے اور تین سال قبل میلسی سے ملتان لائی اور ایک چھوٹے سے ہسپتال جو کہ معصوم شاہ روڈ پر واقع ہے میں ملازمت کی اور پھر اس کا رابطہ ایف آئی اے کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم حسن جلیل سےہوگیاجومقامی وکیل کاکزن ہےاوراسی نے مذکورہ وکیل کو ایف آئی اے کا ڈیلر بنایا ۔اس وقت ذلیخا صدیق سات گاڑیوںکی مالک ہے جن میں سے چار گاڑیاں عامر ملک نامی رینٹ اے کار والے کے پاس رینٹ پر چل رہی ہیں۔ اس نے 40 ہزار ماہوار پر فلیٹ لیا ہوا ہے جہاں وہ اکیلی رہتی ہے اور اس کے بعض اہم محکموں کے افسران سے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ نعت خواں سے لی گئی 27 لاکھ50 ہزار کی رقم بھی اس نے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرائی اس نے جو پہلے صلح نامہ کی تحریر لکھی اس میں اس کے وکیل رانا ارسلان نے چار افراد کو نامزد کیا جبکہ ایف آئی ار میں ناموں کا اضافہ ہو گیا ۔اس کے موبائل ریکارڈ کے مطابق ان ایام میں اس سے رابطہ رکھنے والوں میں متعدد افسران اور ایک جج بھی شامل ہیں جبکہ ایف آئی اے اسلام آباد میں تعینات حسن جلیل خصوصی طور پر اسلام اباد سے آکر اس کیلئے کئی گھنٹے ویمن پولیس سنٹر میں موجود رہے۔ پولیس افسران نے اس کا بھی نوٹس لیا ہے کہ 15 پر اطلاع نہ دیئے جانے کے باوجود پولیس از خود کیسے وہاں پہنچ گئی اور تھانہ بی زیڈ کے سب انسپکٹر مشتاق نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کیوں لیا۔ نعت خواں کو لانے والے پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے جو بغیر درخواست لے کر آئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں