ملتان(واثق رؤف)ریلوے پولیس کے افسران اور سٹاف کی طرف سےاپنے ہی پیٹی بھائی کو نوکری سے فارغ اور خوار کروانے کی خوفناک کہانی کا انکشاف ہوا ہے۔اپنےہی پیٹی بھائی کے ساتھ ظلم کانتیجہ ڈی ایس پی ریلوے پولیس سکھر ڈویژن،سب انسپکٹرسپیشل برانچ ریلوے پولیس ملتان سمیت4اہلکاروں کے خلاف 4سال بعدایف آئی آردرج کرلی گئی۔ایف آئی آر لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کی ہدایت پر درج کی گئی۔ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے مبینہ طور پر ریلوے پولیس افسران مدعی پارٹی کو صلح کے لئے ہراساں کرنے لگے۔ملزمان کو معطل اور گرفتار نہیں کیاجاسکا۔ملزمان کے خلاف کارروائی کےلئےتمام تر ریکارڈ مثل مقدمہ میں موجودہونےکےباوجود تفتیشی کاملزمان کے خلاف کارروائی کےلئےمدعی سے ریکارڈ فراہمی کامطالبہ کردیا،پولیس افسران کی ہدایت پر2021ء میں پہلے والد تھانہ محرر ریلوے پولیس چوکی شورکوٹ اور ایک بھائی کو پہلے سے درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا جس پر نامزد صہیب خالد نےضمانت قبل از گرفتاری کروالی۔بعدازاں بڑے بھائی کو ایف آئی آر سے نکال کربی ایس سی کےطالبعلم چھوٹے بھائی کو نامزد کر دیااس نے بھی ضمانت کروا کر اپنے آپ کوبےگناہ ثابت کیا تو8ماہ بعدناجائز طور پر گرفتار اور برہنہ کرکےتشدد کا نشانہ بنایا۔اس دوران قائم مقام ایس پی براہ راست ویڈیو بھی دیکھتے رہے۔چھوٹے بھائی کی برہنہ ویڈیو اور والد کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی اکلوتی بیٹی کے سسرال بھجوا کر ایم فل بیٹی کو طلاق دلوادی۔ذرائع کے مطابق سال2021ء میں ریلوے پولیس خانیوال نے اپنی ہی چوکی کےمحرر بی ایس سی انجینئرنگ خالد محمود اور اس کے بیٹے صہیب خالد کو پائپ چوری کی ایف آئی آر جوتین معلوم اور دو نامعلوم افراد کےنام پر درج کی گئی تھی میں نامزدکرلیاجس پر صہیب خالد نےضمانت قبل از گرفتاری کروالی اور اس وقت کےانسپکٹر ایس ایچ او خرم خورشید کو واردات کے وقت اپنی دوسرے شہر میں موجودگی کی ویڈیو سمیت دیگر ناقابل تردید شواہد پیش کئے تو انسپکٹر مذکورہ نے تفتیش میں بے گناہ لکھنے کی بجائے یہ لکھ کر چھوڑ دیا کہ صہیب خالد ہمارا ملزم نہیں ہے بعدازاں اس کے چھوٹے بھائی کو نامزد کر لیا جس پر چھوٹےبھائی زوہیب خالدنے ضمانت قبل از گرفتاری کروا کر اپنی بےگناہی کےناقابل تردید ثبوت پیش کئے تو اسےبےگناہ قرار دے کرچھوڑ دیا تاہم 8ماہ بعد اچانک شورکوٹ میں نجی کمپنی میں ڈیوٹی کے دوران گرفتار کر لیا۔قبل ازیں اس کےگرفتاروالدمحرر ریلوےپولیس چوکی شور کوٹ نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی ضمانت کروالی تھی۔ زوہیب خالد کی دوبارہ گرفتاری کے بعد انسپکٹر خرم خورشید،سب انسپکٹر مجید، کانسٹیبلان جاوید اور ثاقب نےگرفتار کئےگئےچھوٹےبھائی زوہیب کو نہ صرف بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس وقت کے قائم مقام ایس پی رانا افتخار کی ہدایت پر برہنہ ویڈیو بھی براہ راست ویڈیو کال کے ذریعے دکھائی۔اگلے روز دوسرے بھائی صہیب خالد کے تھانہ پہنچنے پرتفتیشی نے مضروب بھائی کو اس کےحوالے کیاجس پر اس نے تشدد کا شکار بھائی کا طبی معائنہ کروایا جس میں تشدد ثابت ہوگیا۔صہیب نے بے گناہ بھائی اور اپنے خلاف کی گئی ناجائز کارروائی کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کرلیا۔عدالت سے کیس واپس نہ لینے پر قائم مقام ایس پی،انسپکٹر،سب انسپکٹر محرر کے خلاف درج ایف آئی آر اور بیٹے کی برہنہ ویڈیو لے کر اس کی اکلوتی بیٹی کے سسرال پہنچ گئے جس پر محرر کی بیٹی کو طلاق ہوگئی۔دوسری طرف4سال کے بعد لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے محرر اور اس کے بیٹوں کے خلاف ناجائز مقدمہ درج کرنے میں ملوث انسپکٹر موجودہ ڈی ایس پی سکھرخرم خورشید،سب انسپکٹر مجیدموجودہ تعیناتی سپیشل برانچ ریلوے پولیس ملتان اور دونوں کانسٹیبلان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کردی جس پر ریلوے پولیس خانیوال نے 21دسمبر کو ایف آئی آر درج کرلی تاہم ایف آئی آر میں کمزور دفعات شامل کرکے ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، ساتھ ہی ریلوے پولیس کے افسران کے دباؤ پر ملزمان کو معطل نہیں کیاگیا بلکہ ان کی گرفتاری بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔ دوسری طرف ریلوے پولیس کے ملتان اور دیگر ڈویژنوں میں موجود افسران کی طرف سے مدعی پارٹی کو صلح نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔اس سارے معاملہ پر موقف کے حصول کے لئے ایس پی ملتان ڈویژن امجد منظور خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ مذکورہ کیس میں غیر جانبدار ہیں۔ انہوں نے قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے جبکہ صرف ایک بار مدعی پارٹی کو فون کیا تھا کہ طبی رپورٹ اور دیگر ریکارڈ جمع کروائیں تاکہ تفتیش کے دائرہ کار کو آگے بڑھایا جاسکے۔اس سلسلہ میں مدعی مقدمہ صہیب خالد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس کو افسران کی طرف سے صلح کرنےکے لئے دباؤ کا سامنا ہے۔ اسے اور اس کے خاندان کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جارہی ہے ۔مثل مقدمہ میں طبی معائنہ رپورٹ سمیت تمام ضروری ریکارڈ موجود ہے باوجود اس کے ہمیں ریکارڈ فراہمی کے لئے کہا جارہا ہے۔جس سے ریلوے پولیس کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان سمیت انکی پوری فیملی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ غضنفر عباس اور عرفان گل جیسے ریلوے پولیس اہلکاروں کی محکمانہ رنجش اور ایما پر والد اور ہم بھائیوں کو ناجائز مقدمات میں خوار کیاگیا۔ انہوں نے آئی جی ریلوے پولیس اور دیگر ذمہ داران سے کیس کی غیر جانبدار اور ایماندار افسران سے تفتیش کروانے اپنی اور فیملی کے تحفظ اور ملزمان کی فوری معطلی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔







