بہاولپور( ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان ریلوے کے پاک پتن سیکشن میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں اور قواعد کی کھلی خلاف ورزیوں کے انکشافات سا منے آئے ہیں، جہاں سرکاری ریکارڈ اور انتظامی اختیارات مبینہ طور پر غیر مجاز افراد کے حوالے کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔پاک پتن سیکشن میں تعینات انسپکٹر آف ورکس اکثر میڈیکل رخصت پر رہتے ہیں جس کے باعث دفتر کا بیشتر انتظام جونیئر کلرک محمد وسیم کے ہاتھ میں ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سرکاری ریکارڈ بھی اسی کے پاس موجود ہے جبکہ ریٹائرڈ ملازم محمد نعیم جو قانونی طور پر کسی بھی سرکاری ذمہ داری کے مجاز نہیں، دفتر میں بیٹھ کر عملی طور پر سرکاری امور انجام دے رہا ہے۔ریلوے قواعد کے مطابق کوئی بھی ریٹائرڈ ملازم سرکاری دفتر میں نہ تو دفتری ریکارڈ تک رسائی رکھ سکتا ہے اور نہ ہی انتظامی یا مالی امور میں مداخلت کا مجاز ہوتا ہے۔ اسی طرح سرکاری ریکارڈ کی تحویل صرف متعلقہ مجاز افسر یا بااختیار عملے کے پاس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مگر پاک پتن سیکشن میں ان قواعد کی مبینہ طور پر کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ریلوے کی قیمتی اراضی اور لیز پر دیے گئے رقبوں کے معاملات میں بھی بے ضابطگیاں پائی جا رہی ہیں۔ سرکاری زمین پر میلسی ریلوے سٹیشن 59 فاٹا کے نزدیک ان ٹریفک انسپکٹڑنے ایک میمو ناجائز قابضین کےخلاف اعلی افسران کو تحریر کی جبکہ ان ناجائز قابضین کو انسپکٹر آف ورکس عرصہ دراز سے تحفظ فراہم کر رہا تھا ڈی ایس ملتان فوری طور پر اننسپکٹرآف ورکس اور جونیئر کلرک محمد وسیم کے خلاف قانونی کاروائی اور اعلی سطح کی تحقیقات کرائیں۔







