ریلوے میٹریل چوری، پی ڈبلیو آئی کی تعیناتی میں انتظامی بے ضابطگیاں

​بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان ریلویز کے سیکشن بغداد الجدید میں تعینات پی ڈبلیو آئی (PWI) ملک اظہر کے دورِ تعیناتی میں ریلوے میٹریل کی چوری اور انتظامی بے ضابطگیوں نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق، شیخواین سیکشن پر ریل لائنز، کلپس اور قیمتی درختوں کی چوری کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، مگر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔​اہم انکشافات اور چوری کے واقعات​حالیہ رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کے آغاز سے اب تک محض چند مہینوں میں 12 سے 16 ریلیں چوری ہو چکی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان چوریوں کی ایف آئی آر (FIR) تاحال “نامعلوم افراد” کے خلاف درج کرائی گئی ہے، جس کے باعث ریلوے کا کوئی بھی مسروقہ سامان برآمد نہیں ہو سکا ہے۔​ پی ڈبلیو آئی ملک اظہر پر الزام ہے کہ اس سے قبل کوٹ ادو میں تعیناتی کے دوران بھی بڑے پیمانے پر ریل چوری ہوئی تھی، جہاں ریلوے سامان سے بھرا ایک ٹرک بھی پکڑا گیا تھا۔ماتحت عملے کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر اکثر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتا ہے اور چھوٹے ملازمین (گینگ مین اور میٹ) پر دباؤ ڈال کر انہیں ہراساں کرتا ہے۔​جان لیوا حملے: فیلڈ میں کام کرنے والے چھوٹے ملازمین پر فائرنگ کے متعدد واقعات بھی پیش آ چکے ہیں، جس سے عملے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔​افسران کی مبینہ پشت پناہی​ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی ڈبلیو آئی کو اے ای این (AEN) لودھراں کی مکمل “آشیرباد” حاصل ہے۔ مبینہ طور پر دونوں کی ملی بھگت کے باعث اب تک کسی قسم کی محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔​”اے ای این لودھراں نے اپنی تعیناتی کے دوران کبھی موقع ملاحظہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے فوجی اہمیت کا حامل یہ ٹریک اب تباہی کے دہانے پر ہے۔”​صورتحال کی سنگینی​مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف کاغذی کارروائی کے لیے گینگ مینوں سے درخواستیں دلوائی جاتی ہیں، لیکن ان کی پیروی نہیں کی جاتی۔ اعلیٰ حکام کی مسلسل خاموشی پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں کہ اسٹریٹجک اہمیت رکھنے والے ریلوے ٹریک کو صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچانے کے لیے اب تک کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا۔​عوامی و سماجی حلقوں اور شہریوں نے وزیر ریلوے اور چیئرمین ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری انکوائری کرائی جائے اور ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں