ملتان(شیخ نعیم سے )ریلوے سٹیشن اور جنرل بس سٹینڈز گھروں سے بھاگنے والے بچوں کے لیے خطرناک مراکز بن گئے۔۔نوعمر بچے بھیک مافیا، منشیات فروشوں اور غیر اخلاقی نیٹ ورکس کے ہتھے چڑھنے لگے۔ریلوے سٹیشنوں کے بعد جنرل بس سٹینڈز بھی گھروں سے بھاگنے والے نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے خطرناک ٹھکانے بنتے جا رہے ہیں، جہاں جرائم پیشہ عناصر کم سن بچوں کو نوکری، بہتر مستقبل اور سہولتوں کا جھانسہ دے کر نہ صرف جرائم کی دنیا میں دھکیل رہے ہیں بلکہ ان کی زندگیاں مکمل طور پر تباہ کی جا رہی ہیں۔ریلوے ذرائع کے مطابق سال 2025 کے دوران ملک بھر کے مختلف ریلوے اسٹیشنز سے گھروں سے فرار ہونے والے 658 لڑکے اور لڑکیاں تحویل میں لے کر ان کے ورثا کے حوالے کیے گئے۔ ان میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق لڑکیوں کی عمریں زیادہ تر 15 سے 18 سال جبکہ لڑکوں کی عمریں 14 سے 17 سال کے درمیان تھیں، تاہم سب سے زیادہ تعداد 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی سامنے آئی جو اس خطرناک رجحان کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔تحقیقات کے مطابق گھروں سے بھاگنے والے یہ بچے یا تو اپنے کسی عزیز کے پاس جانے کی کوشش میں ریلوے سٹیشن پہنچتے ہیں یا پھر مجبوری کے عالم میں وہیں ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ اسی دوران بھیک مافیا، منشیات فروش اور دیگر بدقماش عناصر ان بچوں کو نشانہ بنا لیتے ہیں، جو ان کی بھوک، لاچاری اور خوف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق کئی کم عمر بچے زبردستی بھیک مانگنے پر لگائے جاتے ہیں، جبکہ نوعمر لڑکوں کو منشیات کی ترسیل، فروخت گھروں میں چوری اور دیگر جرائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اصل ملزمان قانون کی گرفت سے بچ سکیں۔ اسی طرح بعض بچیوں کو مبینہ طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے جس سے ان کی زندگیاں نفسیاتی اور جسمانی طور پر تباہ ہو جاتی ہیں۔تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ریلوے سٹیشنوں کے بعد جنرل بس سٹینڈ گھروں سے بھاگنے والے بچوں کا دوسرا بڑا مرکز بن چکا ہے۔ بس سٹینڈ کے اطراف موجود بعض ہوٹلز، سرائیں اور مشکوک ٹھکانوں میں مبینہ طور پر غیر قانونی اڈے قائم ہیںجہاں نوکری کا جھانسہ دے کر نوعمر بچوں کو پھنسایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان مقامات پر غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور یہاں جنسی درندوں کی آمد و رفت معمول بن چکی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ جنرل بس سٹینڈ پر سرگرم جرائم پیشہ عناصر کم عمر بچوں کو پہلے نشے کا عادی بناتے ہیں اور بعدازاں انہی بچوں سے منشیات فروشی کرائی جاتی ہے۔ اس طرح یہ بچے نہ صرف خود تباہ ہوتے ہیں بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مستقل خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ابتدائی تفتیش کے دوران بچوں نے گھروں سے بھاگنے کی وجوہات میں غربت، بیروزگاری، کھانے پینے کی کمی، والدین کی ڈانٹ ڈپٹ، زبردستی مشقت، گھریلو جھگڑے،سوشل میڈیا کی چکاچوند، عشق و محبت اور آزاد طرزِ زندگی کے خواب کو نمایاں طور پر بیان کیا۔ کئی بچوں نے بتایا کہ گھر میں ان کی بات سننے والا کوئی نہیں تھا، جس کے باعث وہ حالات سے تنگ آ کر یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ریلوے ذرائع اور متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی جائے تو یہ بچے مستقل طور پر کریمنل نیٹ ورکس کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ذرائع کےمطابق- ریلوے اسٹیشنوں اور جنرل بس اسٹینڈز پر سخت نگرانی، مشکوک ہوٹلز اور سراؤں کے خلاف مؤثر کارروائی سماجی اداروں کی شمولیت اور والدین کی سطح پر شعور بیداری کے بغیر اس سنگین مسئلے کا حل ممکن نہیں بصورت دیگر یہ مقامات ایسے معصوم بچوں کے لیے مستقل تباہی کے مراکز بنے رہیں گے، جو بہتر مستقبل کی تلاش میں گھر سے نکلتے ہیں لیکن انجام کار جرائم کی تاریک دنیا میں گم ہو جاتے ہیں۔







