ریلوے: اوپن بولی نے کرپشن کاپول کھول دیا،817 ملین روپے منافع

بہاولپور ( ڈسٹرکٹ رپوٹر) پاکستان ریلوے میں اوپن بولی نے محکمانہ کرپشن کا پول کھول کے رکھ دیا ۔ 817 ملین روپے کا حیران کن منافع سے پاکستان ریلوے میں برسوں سے جاری مالی بے ضابطگیوں کا ایک اور بڑا انکشاف سامنے آ گیا۔ حال ہی میں لگیج وینوں اور بریک وینوں کی اوپن بولی کے نتائج نے ریلوے کے اندر موجود ایک مخصوص کمرشل و ٹریفک مافیا کا پردہ فاش کر دیا۔ذرائع کے مطابق سی ای او ریلوے عامر بلوچ جو وفاقی وزیر ریلوے کے اوپن بولی کے فیصلے کے مخالف رہے، ان کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے ماضی میں یہ تاثر دیا ہوا تھا کہ اوپن بولی سے بہتر ریٹ حاصل نہیں ہوتے۔تاہم جب وفاقی وزیر ریلوے کی ہدایت پر ویجیلینس ٹیم نے مارکیٹ سروے اور ریٹس کا ازسرِنو جائزہ لیا، تو پہلے ہی مرحلے میں حیران کن نتائج سامنے آئے اوپن بولی کے ذریعے پاکستان ریلوے کو تقریباً 817 ملین روپے کا مالی فائدہ ہوا۔ذرائع کے مطابق اوپن بولی میں کراچی ایکسپریس، فرید ایکسپریس، جعفر ایکسپریس، عوام ایکسپریس، بہاالدین زکریا ایکسپریس،قراقرم ایکسپریس اور موسیٰ پاک ایکسپریس کی لگیج وینیں اور بریک وینیں شامل تھیں۔اسی طرح کارگو ایکسپریس ٹرین کی بولی میں بھی غیرمعمولی فرق سامنے آیا۔بادامی باغ لاہور سے کراچی جانے والی اس ٹرین میں شامل ZBC ویگنوں کا پچھلا بینچ مارک ساڑھے تین لاکھ روپے تھا، جسے ویجیلینس رپورٹ کے بعد چھ لاکھ روپے کر دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر بولی میں اکثر ٹھیکیداروں نے اس سے بھی زیادہ ریٹ پیش کیے، جس سے واضح ہوا کہ ماضی میں ریلوے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جاتا رہا — جب کہ اس منافع کا بڑا حصہ مبینہ طور پر ریلوےحکام کی جیبوں میں جاتا رہا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح شفاف اوپن بولی پالیسی کو پیسنجر ٹرینوں تک بھی وسعت دی گئی اور مافیا کے دباؤ سے آزاد فیصلے کیے گئےتو پاکستان ریلوے کو مستقبل میں اربوں روپے کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہاں پہ سید امتیاز فاروق جو کہ ڈپٹی سی او پی ایس گڈز کام کر رہے ہیں وہ اس سارے پراسیس کی براہ راست نگرانی کرتے رہے ہیں اور ٹھیکے داروں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں